حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 25
حیات احمد ۲۵ جلد اوّل حصہ اول رنگ ہو گا جو قریش کے مقدس بزرگوں صدیق اور فاروق اور علی مرتضیٰ کو ملا تھا۔جن کے ایمان کو آسمان کے فرشتے بھی تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جن کے صافی عرفان میں سے اس قدر علوم و انوار و برکات و شجاعت و استقامت کے چشمے نکلے تھے کہ جس کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں سو ہمارے سید و مولیٰ فرماتے ہیں کہ وہ حارث بھی جب آئے گا تو اسی ایمانی چشمہ و عرفانی منبع کے ذریعہ سے قوم کے پودوں کی آبپاشی کرے گا اور اُن کے مرجھائے ہوئے دلوں کو پھر تازہ کر دے گا اور مخالفوں کے تمام بیجا الزاموں کو اپنی صداقت کے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا۔تب اسلام پھر اپنی بلندی اور عظمت دکھائے گا۔اور بے حیا خنزیر قتل کئے جاویں گے۔اور مومنین کو وہ عزت کی کرسی مل جائے گی جس کے وہ مستحق تھے۔الغرض حدیث نبوی کی یہ تشریح ہے جو اس جگہ ہم نے بیان کر دی۔اور اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کرتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔اور اسی کی طرف وہ الہام بھی اشارہ کرتا ہے جو اس عاجز کی نسبت بحوالہ ایک حدیث نبوی کے جو پیشگوئی کے طور پر اس عاجز کے حق میں ہے۔خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے جو براہین میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ، إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَكَرَ اللهُ سَعْيَهُ خُذُوْا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِسِ۔اس الہام میں صریح اور صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ وہ فارسی الاصل جس کا دوسرا نام حارث بھی ہے بڑی خصوصیت یہ رکھتا ہے کہ اس کا ایمان نہایت درجہ کا قوی ہے۔اگر ایمان ثریا میں بھی ہوتا تو وہ مرد وہیں اس کو پا لیتا۔خدا اس کا شکر گزار ہے کہ اس نے دینِ اسلام کے منکروں کے سب الزامات و شبہات کو رد کیا اور حجت کو پورا کر دیا۔تو حید کو پکڑو تو حید کو پکڑواے ابنائے فارس۔یعنی توحید کی راہیں صاف کرو اور توحید سکھلاؤ اور توحید جو دنیا سے گری جاتی اور گم ہوتی جاتی ہے اس کو پکڑ لو کہ یہی سب سے مقدم ہے اور اسی کو لوگ بھول گئے اور اس جگہ ابن کی جگہ جو ابناء کا لفظ اختیار کیا گیا حالانکہ مخاطب صرف