حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 338 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 338

حیات احمد ۳۳۸ جلد اول حصہ سوم فتاد است در فاضلان حرص و آز ہمہ جانگاه شد در طمع باز عالموں کے دلوں میں حرص اور لالچ پیدا ہو گیا ہے اور ہر جگہ طمع کے دروازے کھل گئے ہیں طمع عہد ہائے گران بگسلد ز دلدار پیوند جاں بگسلد لالچ تو بڑے بڑے مضبوط اقراروں کو توڑ دیتا ہے بلکہ محبوب کے ساتھ گہرے ربط کو بھی تو ڑ دیتا ہے بجویند از حرص کثرت بمال ازاں خود فتد اندر ان اختلال یہ لوگ حرص کی وجہ سے کثرتِ مال چاہتے ہیں حالانکہ مال کمانے میں بھی حرص کی وجہ سے فتور پڑتا ہے ندانند این مردمان کہ آہستگی ہم رساند بران افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ آہنگی سے بھی ان کی یہ مراد پوری ہو سکتی ہے دریغا زمانه بسا بیذق آہستہ راند کہ ناگاہ ہر جائے فرزیں نشاند زمانہ نے بہت سے پیارے شطرنج کے آہستہ آہستہ بڑھائے جن کو آخر یکدم فرزین کی جگہ بٹھا دیا بنظم ایں قدر ماجرائے برفت بپوشی گر از من خطائے برفت یہ تھوڑا سا حال میں نے نظم میں لکھا ہے اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو پردہ پوشی کر که من بنده ناکس و کهترم نہ گوہر شناسم نه با گوہرم کیونکہ میں ایک کمزور اور عاجز انسان ہوں نہ جوہر شناس ہوں نہ جوہری بود چشم احرار از عیب پاک اگر جاہلے عیب بیند چه باک شریفوں کی آنکھ تو عیب گیری کے نقص سے پاک ہوتی ہے ہاں جاہل عیب بین ہوا کرے تو اس کا کوئی مضائقہ نہیں الرّاق بندہ آنم غلام احمد عفی اللہ عنہ ۶ ستمبر ۱۸۷۲ء نوٹ :۔اس نظم کا ترجمہ ہم نے درشین فارسی مترجم ترجمه فرمودہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے صفحہ 313 تا صفحہ 324 سے لیا ہے۔یہ نظم اولاً بدر ۲۹ را پریل ۱۹۰۹ء میں شائع ہوئی تھی۔( ناشر )