حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 337
حیات احمد ۳۳۷ جلد اول حصہ سوم نیستند ولی از خدا هم جدا نیستند بگفتن اگر چه خدا اگر چہ کہنے کو وہ خدا نہیں ہیں۔لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہیں کے را که او ظل یزداں بود قیاسش بخود جهل و طغیاں بود تمام جو شخص خدا کا ظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سرکشی ہے بردش ازاں سُو گر آید کتاب ازیں سو بزودی بگویم جواب اس کے رڈ میں اگر کوئی کتاب شائع ہو تو میں اس طرف سے فوراً جواب دوں گا ولیکن بیاید کتابے که باشد محیط همه ما يُرام یہ چاہیے کہ وہ کتاب پوری ہو اور تمام مقاصد پر حاوی ہو ز عہدے کہ کردم نگردم گہے نه گردم رباید صبا زیں رہے میں کبھی اس عہد سے نہیں پھروں گا جو میں نے کیا ہے ہوا میری گرد کو بھی اس رستے سے نہیں ہٹا سکتی مگر کا سمانے دگر گو نہ کار فراز آید از گردش روزگار سوائے اس کے کہ آسمان سے کوئی اور امر گردش زمانہ کی وجہ سے نازل ہو چه گویم ز تدریس اطفال حال که دارم دل از حال شان پر ملال اس زمانہ کے بچوں کی تعلیم کا کیا حال بیان کروں کہ میرا دل ان کی وجہ سے بہت رنجیدہ ہے معلم میتر شود بست کس ولیکن بزر مشکل این است بس بیسیوں استاد مل سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ صرف روپیہ سے ملتے ہیں کجا آں قناعت گزین اوستاد کہ بر اند کے آمد از اتحاد وہ قائع استاد اب کہاں رہے جو اپنے اخلاص کے باعث تھوڑے گزارہ پر مل جاتے تھے بکوشیم و انجام کار آن بود کہ آں خواہش و رائے یزداں بود ہم کوشش کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی اور خواہش ہوتی ہے