حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 328
حیات احمد ۳۲۸ جلد اول حصہ سوم میں حضرت مسیح موعود سے بعض مسائل پر مذاکرہ علمیہ یا مباحثہ جو کچھ بھی کہا جائے ہوتا رہا۔قادیان سے واپس جا کر مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک منظوم فارسی خط لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بواپسی اس خط کا منظوم جواب لکھ کر بھیج دیا۔میں اس جواب کو یہاں اس لئے درج کرتا ہوں کہ اس سے ان مسائل پر بھی روشنی پڑتی ہے جن پر مذاکرہ ہوتا رہا اور نیز بی بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر محبت تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آپ کس قدر قائل تھے۔آپ اس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نبی ہی یقین کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کو اپنی ذات میں بھی محسوس کرتے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے جبکہ آپ دنیا میں مبعوث نہ ہوئے تھے اور نہ آپ کا کوئی دعوی کسی قسم کا تھا۔اُس عہد قدیم کے حالات اور آپ کی زندگی کا اسلوب ثابت کرتا ہے کہ آپ اظہار حق کے لئے کس قدر مستعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کے اظہار کے لئے کیسے آمادہ رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس خط سے ایک اور بات کا بھی پتہ لگتا ہے کہ اس وقت آپ کی مالی حالت کیسی تھی اور آپ کو اولاد کی تعلیم دینی کا کس قدر فکر اور شوق تھا۔اور علماء زمان کی کیا حالت تھی۔غرض یہ خط بہت سے امور کو روشنی میں لاتا ہے۔میں نے اس مکتوب کے مقاصد و مطالب مہمہ کا ذکر کر دیا ہے۔اصل خط کو غور سے پڑھنے سے اور بھی لطف آئے گا اور وہ یہ ہے۔مکتوب در مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سپاس آن خداوند یکتائے را بمہر و بمه عالم آرائے را اس بے مثل خداوند کا شکر ہے جس نے دنیا کو چاند اور سورج سے آراستہ کیا بهر لحظه امید باری از وست بہر حالتے دوست داری از دست ہمیں ہر وقت اُس کی طرف سے مدد کی امید ہے اور ہر حالت میں اُسی سے محبت کا تعلق ہے جہاں جمله یک صنعت آباد اوست خنک نیک بختی که در یادِ اوست سارا جہاں اُسی کی کاریگری کا مظہر ہے خوش قسمت ہے وہ نیک بخت جو اس کی یاد میں رہتا ہے