حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 324
حیات احمد ۳۲۴ جلد اول حصہ سوم یہ شعر عموماً پڑھا کرتے تھے۔بزہد و ورع کوش و صدق و صفا و لیکن میزائے ہر مصطفی * جب اس مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ جواب سنا۔تو اس پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ بے اختیار ہو کر چیخ مار کر رو پڑا اور دیر تک روتا رہا۔اور چونکہ اس وقت تک نہ آپ کا کوئی دعوی تھا اور نہ بیعت لیتے تھے۔وہ ایک ارادت اور عقیدت کے ساتھ چلا گیا۔بعض دوسرے مشاغل متعلق رفاہ عام ہر چند آپ ان تمام امور سے گارہ تھے جن کا تعلق زمینداری اور دنیاوی سلسلہ سے تھا اور آپ کو یہی پسند تھا کہ خدا تعالیٰ کی یاد و عبادت میں اپنی عمر بسر کریں مگر خاندانی معاملات زمینداری وغیرہ ایسے واقع ہوئے تھے کہ آپ کو حضرت والد صاحب قبلہ کے ارشاد کی تعمیل کرنی پڑتی تھی۔مقدمات کے متعلق میں اوپر کہہ آیا ہوں۔دوسرے امور جو گاؤں کے متعلق ہوتے اُن میں بھی آپ کو گڑھا دخل دینا پڑتا تھا۔ایک مرتبہ قادیان کی صفائی وغیرہ کے لئے احکام نافذ ہوئے۔قادیان کے لوگ ہمیشہ سے باوجود رعایا ہونے کے اپنے مالک مغلوں سے شورہ پشتی کرتے رہے ہیں اور دراصل ان کی مہر بانیوں اور کرم گستریوں نے انہیں دلیر کر دیا تھا۔اس موقع پر بھی انہوں نے مخالفت کی۔اس قسم کے انتظامات بھی حضرت ہی کے سپرد تھے۔آپ سرکاری احکام کی تعمیل ہمیشہ سے ضروری سمجھتے تھے اور عدم تعاون کو آپ نے پسند نہیں کیا۔اس موقع پر آپ نے تحصیلدار بٹالہ کو ایک خط لکھا جس کی نقل مجھے بھی کسی طرح سے مل گئی۔اس خط میں آپ نے سرکاری احکام کی تعمیل اور تعاون کا اظہار فرمایا ہے اور اس سے آپ کی زندگی کے ایک پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔اس لئے میں اسے یہاں دیتا ہوں۔جناب مخدوم مکرم تحصیلدارصاحب بٹالہ سلامت۔بعد ماوجب ایک خلاصہ رپورٹ حفظان صحت مجریہ جناب معلی القاب صاحب کمشنر بہادر دربارہ ہدایت اٹھانے روڑیوں اور پُر کرنے ایسے گڑھوں کے جو قصبہ میں یا متصل اس کے واقع ہیں ترجمہ: نیکی اور پرہیز گاری اور صدق و صفا کو اختیار کر گر حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھنے کی کوشش نہ کر۔