حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 323
حیات احمد ۳۲۳ جلد اول حصہ سوم آپ خود فرماتے ہیں:۔میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کی ہیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدید ہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا۔جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔“ آپ کا عام مجاہدہ اور ریاضت اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز با جماعت تھی۔جس طرح پر صحابہ نے سلوک کے منازل طے کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت فرمائی اسی راہ اور رنگ کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔اور آپ نے اسی راہ سے پایا جو کچھ پایا۔ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب آپ کے پاس آئے۔آپ اس وقت اپنے بالا خانہ کے صحن میں ٹہل رہے تھے۔وہاں ہی وہ مولوی صاحب آپ سے ملے۔اس نے بیٹھتے ہی یہ سوال کیا کہ یہ نعمت آپ کو کیونکر ملی؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو جواب دیا کہ پانچ نمازوں سے زیادہ نمازیں نہیں پڑھیں اور تمیں روزوں سے زیادہ روزے نہیں رکھے۔جو کچھ ملا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا نہ کسی عمل سے۔آپ نے اس جواب میں اس کو بتایا کہ اتباع سنت نبوی ہی دراصل ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہے۔خلاف سنت اعمال اور اذکار انسان کے لئے کبھی اور کسی حال میں کسی برکت اور فیض کا موجب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے قرآن مجید نے جو راہِ ہدایت بتایا ہے وہ بھی یہی ہے۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران :۳۲) یہی اصل آپ کا دستور العمل تھا۔اور اسی کی ہدایت ساری عمر فرماتے رہے۔چنانچہ آپ سعدی کا