حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 322 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 322

حیات احمد ۳۲۲ جلد اول حصہ سوم مہربانی اور بلند حوصلگی تھی کہ مجھ سے سنا اور پروا بھی نہیں کی۔گویا میں نے کچھ کہا ہی نہیں۔یہ احساس تو خود بھائی جی کو تھا۔اس واقعہ کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق و شمائل کی ایک تفسیر ہے۔جس کو ایک ایسے شخص نے بیان کیا۔جو مذہب اور عقیدہ کے لحاظ سے ہماری جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھتا تھا۔بلکہ کہنا چاہیئے کہ وہ مِنْ وَجْهِ دشمن تھا۔لوگ آپ کو بھی مجنون کہتے ہیں آپ اس کی اس بات کو سن کر برا فروختہ نہیں ہوتے بلکہ اس پر التفات ہی نہیں کرتے اور ہنس کر چھوڑ دیتے ہیں یہ ایک عام سنت ہے۔اور قرآن مجید اس کی تائید کرتا ہے کہ لوگ انبیاء علیہم السلام کو مجنون کہہ دیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس وقت کوئی دعوی نہ تھا مگر خلوت نشینی (جو انبیاء کا قبل از بعثت ایک خاصہ ہوتا ہے) کی وجہ سے آپ کو بھی مجنون کہا گیا۔اور بھائی کشن سنگھ کہتے تھے کہ میں نہیں بعض لوگ ایسا ہی کہا کرتے تھے۔میں نے تو صرف نقل روایت کر دیا تھا۔حضرت مسیح موعود کی گوشہ نشینی محض اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر و شغل کے لئے تھی اور ا ہل دنیا جو اس حقیقت سے نا آشنا ہیں وہ اسے جنون کی قسم یا نتیجہ بتاتے ہیں۔آہ! اس اندھی دنیا کی بھی عجیب حالت ہے کہ وہ اپنے محسنوں اور حقیقی غمگساروں کو بھی مجنون قرار دیتی ہے۔وہ ان کے ایمان اور نجات کے لئے شب و روز فکر مند رہتے ہیں مگر یہ ابنائے دنیا خود ان کو ہی کا فر اور بے دین قرار دیتے ہیں۔جانم گداخت در غم ایمانت اے عزیز دور میں طرفہ تر که من بگمان تو کافرم انعام الہی کیونکر ہوا با جود یکہ آپ گوشہ گزینی کی زندگی بسر کرتے تھے مگر آپ کی نیکی اور دیندارانہ زندگی کی خوشبو آخر نکلنے لگی اور کبھی کبھی بعض لوگ آپ کی خدمت میں آنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کے لئے ایک خاص جوش اور تڑپ رکھتے تھے۔چنانچہ ہتر جمہ: اے عزیز میری جان تیرے ایمان کے غم میں گھل گئی مگر عجیب بات یہ ہے کہ تیرے خیال میں میں کافر ہوں۔