حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 317 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 317

حیات احمد ۳۱۷ جلد اول حصہ سوم پھر ان مقدمات میں ایک امر جو آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔کہ آپ ان مقدمات کی تیاری پورے طور پر کرتے تھے اور اس کے لئے جس قدر محنت آپ کو کرنی پڑتی تھی ہر شخص اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔یہ کام آپ کے طبعی شوق یا دلچپسی کا تو تھا نہیں بلکہ بالطبع آپ کو کراہت تھی لیکن محض حضرت والد صاحب مرحوم کے ارشاد کی اطاعت اور خدا کی رضا کے لئے آپ اسے کرتے تھے۔جس کام میں انسان کو طبعا دلچسپی ہو اس کے لئے تھوڑی سی محنت بھی بہت ہوتی ہے لیکن جہاں ایک امر طبیعت کے خلاف ہو اس کے لئے اپنے نفس کے ساتھ بہت بڑا جہاد کرنا پڑتا ہے۔باوجود اس کے آپ تمسك بالاسباب کے طور پر ہر مقدمہ کے لئے پورا تیار ہو کر جاتے تھے۔ہر مقدمہ کے متعلق ضروری کا غذات و شواہد کا خلاصہ تحریر کر لیتے۔اور ہر ایک قسم کے کاغذات جو شامل کرتے یا عرضی دعویٰ وغیرہ کی نقول رکھتے تا کہ عند الضرورت مقدمہ کے سمجھنے یا سمجھانے میں آسانی ہو۔اور ان مقدمات میں گو اخراجات کی کوئی تفصیل حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم آپ سے نہ پوچھتے تھے مگر آپ لکھ لیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کی اس وقت کی بعض یادداشتیں موجود ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کسی محنت سے تیاری کیا کرتے تھے۔دل به یار دست بکار باوجود اس کے کہ آپ تیاری مقدمہ میں پوری محنت اور کوشش فرماتے تھے مگر ان اسباب پر آپ کبھی بھروسہ نہیں کرتے تھے بلکہ دعاؤں سے کام لیتے اور ہر وقت خدا تعالیٰ ہی کی ذات آپ کے مد نظر رہتی۔وہی معبود اور مطلوب تھا۔اور اُسی پر توکل و اعتماد۔چنانچہ ان مقدمات کی یادداشتوں میں سے ایک پر آپ نے حسب ذیل دعا لکھی ہے۔اور اس تحریر سے ثابت ہے کہ یہ مئی ۱۸۷۱ء کی ہے۔گویا ۶ ۵ برس پیشتر کی۔میں پسند کرتا ہوں کہ اس تحریر کو خود حضرت ہی کے رسم الخط میں دے دوں۔مگر اولا نستعلیق میں دیتا ہوں۔