حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 310
حیات احمد ۳۱۰ جلد اول حصہ سوم جلد اشاعت اور تحمیل کا کام جہاں تک اسباب سے تعلق ہے احمدی قوم کی حوصلہ افزائی اور اعانت پر موقوف ہے۔اور اس کا جو عملی ثبوت ہے وہ ظاہر ہے۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے اب تک زندہ رکھا اور میں پھر اسی سلسلہ میں کچھ شائع کر رہا ہوں۔گزشتہ سالانہ جلسہ پر حضرت نے اس کی اہمیت کو جن الفاظ میں ظاہر فرمایا میں اُس سے زیادہ نہ کہہ سکتا ہوں اور نہ کہنا چاہتا ہوں۔اس لئے کہ اس میں جو قوت اور اثر ہو سکتا ہے وہ دوسرے کے الفاظ اور بیان میں نہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ کتاب ہر احمدی کے گھر میں خواندہ ہو یا نا خواندہ ہونی چاہئے۔اب ہر احمدی سوچ لے کہ اس نے اس پر عمل کیا ہے میں اس کی تفصیل میں جا کر دوسروں کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتا۔اس لئے کہ ہے که آزرده دل آزرده کند انجمن را میں چاہتا ہوں کہ احباب تلافی کریں اور اس خطرہ سے ڈریں جس کی طرف حضرت نے اشارہ کیا تھا کہ احباب اس کتاب کی تکمیل کے لئے توجہ کریں اور خاکسار عرفانی کی زندگی سے فائدہ اٹھا ئیں ورنہ یہ بہت مہنگی پڑے گی۔میں ایک ہزار ایسے دوستوں کو اس کی اشاعت کے لئے پکارتا ہوں جو اس کی اشاعت کے لئے مستقل طور پر اپنے نام درج کرا دیں اور اس مقصد کے لئے تمام جماعتوں کے سیکرٹری صاحبان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ ہر خواندہ یا نا خواندہ احمدی کے گھر تک یہ کتاب پہلی گئی ہے یا نہیں۔میں ناسپاسی کے جرم کا ارتکاب کروں گا اگر یہ ظاہر نہ کروں کہ یہ نمبر بھی ہرگز شائع نہ ہوتا اگر حضرت خلیفہ امسیح کی توجہ عالی مساعدت نہ فرماتی۔بالآخر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے جیسا کہ میرا آقا چاہتا ہے میں اُسے مکمل کرسکوں اور احباب کے دلوں میں القا کرے کہ وہ اس کام کی اہمیت اور ضرورت کا عملی احساس کریں۔آمین ثم آمین۔خاکسار عرفانی - کنج عافیت تراب منزل قادیان دارالامان ۲۵ رنومبر ۱۹۲۸ء