حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 300
حیات احمد ۳۰۰ جلد اول حصہ دوم کر لیتے اور ہر ایک کو بمقدار مساوی حصہ دے دیتے اور اس طرح پر چوتھائی کبھی پانچواں حصہ آپ کو ملتا۔اور اس جماعت میں اپنی روٹی تقسیم کر کے کھانے میں آپ کو بڑا مزا آ تا اور بہت خوش ہوتے۔یہ لوگ جو آپ کے دستر خوان پر کھانے والے تھے علی العموم کھانے کے وقت موجود ہوتے اور کبھی ان میں سے کوئی موجود نہ ہوتا تو آپ اس کا حصہ رکھ لیتے تھے۔اس طرح پر کسی کو یہ فکر نہ ہوتا تھا کہ اگر وقت پر نہ گئے تو کھانا نہیں ملے گا۔بلکہ ہر ایک شخص مطمئن ہوتا تھا کہ اسکا حصہ انشاء اللہ محفوظ ملے گا۔یہ ایثار اور طعام المسکین کی عادت شروع سے تھی اور دراصل یہ بطور ایک بیج کے تھی۔قدرت آپ کو تیار کر رہی تھی اور وہ وقت آنے والا تھا کہ ہزاروں آدمی آپ کے دستر خوان پر کھانے والے تھے۔اس عمل میں آپ کے زیر نظر اللہ تعالیٰ کے ایک خاص امر کی تکریم اور تعمیل بھی تھی۔ارشاد الہی کی تکریم اور تحمیل بہت تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی ہدایتوں کی بھی پابندی کریں۔مگر انبیاء علیہم السلام کی فطرت ایسی واقع ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ادنی اشارہ یا تحریک پر بھی عمل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ اوامر الہیہ کی تکریم اور ادب ہوتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک رؤیا میں دیکھتے ہیں کہ گویا اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔خواب کی بات ہے تعبیر طلب ہے۔مگر ابو الملة ای رنگ میں تعمیل کرنے کو اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت میں یوں تو پہلے ہی یہ بات رکھ دی گئی تھی۔آ۔غربا اور مساکین کے ساتھ سلوک کرتے اور اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دیتے مگر ساتھ ہی انہی ایام میں ۱۸۷۴ء میں آپ نے ایک رؤیا دیکھی جس میں ایک فرشتہ نے آپ کو ایک نان درخشاں دیا۔