حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 299 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 299

حیات احمد ۲۹۹ جلد اول حصہ دوم الغرض میر صاحب کی زندہ دلی کی وہ صحبتیں اور تذکرے اور بعض مسائل پر نکتہ آفرینیاں ایک عجیب پُرلطف زمانہ کی یاد دلاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کی عملی زندگی کے جانچنے اور دیکھنے کا میر صاحب کو خوب موقعہ ملا۔غقارے کا کٹورا گم ہو گیا میاں غفا را حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بطور ایک خادم کے انہیں ایام میں رہتا تھا۔ایک مرتبہ اس کا ایک کٹورا گم ہو گیا۔کٹورا کیا جاتا رہا بس گھر بھر پر آفت آ گئی۔میاں غفارے کی نئی نئی جوانی اور جوش اور اس کٹورے کا نقصان۔پھر کیا تھا۔بیوی کو گالیوں سے لتاڑ ڈالا۔اور ممکن تھا کہ بہت سختی سے مارتا بھی۔مگر ہٹا دیا گیا۔آخر حضرت تک نوبت پہنچی کہ میاں غفارے کا کٹورا گم ہو گیا! یہ عشاء کی نماز کا وقت تھا حضرت صاحب نے اس کو بلا کر کہا : " کم بخت صبر کر ایک کٹورا جاتا رہا تو کیا ہو گیا۔خدا جانے کیا ہونا تھا۔شکر کر کہ اسی پر بلائٹل گئی۔بعض وقت تھوڑا سا نقصان کسی بڑے نقصان کا کفارہ ہو جاتا ہے اس قدر شور کیوں ڈالتا ہے۔“ غرض بہت کچھ صبر اور شکر کی ہدایت کرتے رہے اور آخر میں اس کو وہ کہانی سنائی جو کسی دوسری جگہ لالہ ملا وامل کی زبانی درج ہو چکی ہے۔جس میں ایک شخص نے جانوروں کی بولیاں سیکھنے کی خواہش کی تھی۔اور ایک گھوڑے کی موت سے نقصان کا بچاؤ کرتے کرتے آخر خود خواجہ کی موت آگئی تھی۔جب اس طرح پر آپ اس کو نصیحت اور ملامت کر چکے تب کہیں جا کر طـوعــا وَكَرُھا میاں غفارے کا جوش ٹھنڈا ہوا۔اور گھر والی مصیبت سے بچی۔کھانا بھی تنہا نہ کھاتے ان ایام میں آپ کے معمولات میں یہ امر داخل تھا کہ آپ کا کھانا اس چوبارے میں آیا کرتا تھا۔جہاں آپ علی العموم رہتے تھے۔جس وقت کھانا آتا تو دو تین لڑکے اور ایک آپ کا عزیز غلام حسین جو بہرہ بھی تھا پاس موجود ہوتے۔آپ ایک آدمی کے کھانے کو چار پانچ حصوں میں تقسیم