حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 296 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 296

حیات احمد ۲۹۶ جلد اول حصہ دوم ہم بروش صلحاء و ہم بر مذاق حکماء فواید تعاون و منافع معاونت ہویدا ازیں جاست که فرمان واجب الا ذعان و منطوق کامل الوثوق حضرت عزت عز اسمه با رشاد تَعَاوَنُوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقْوَى صدور یافتہ۔پس نص تنزیل واجب کرد تعاو نے را که از جنس برو تقوی باشد و ظاهر است که عهده وکالت منافی شعار بر و تقوی نیست 66 غرض ابتداء جب یہ خیال آیا کہ امتحان قانونی دینا چاہیئے تو آپ کی غایت مقصود غرباء اور ضعفاء کی امداد و اعانت تھی۔والا جو حق پوش اس کو ظلماً حضرت مسیح موعود کی زراندوزی کی طرف منسوب کرتا ہے اس کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ اپنی خاندانی وجاہت اور خوبی اور دیانت وامانت کے لحاظ سے بہترین ملازمت حاصل کر سکتے تھے اور پھر نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ دو مرتبہ اعلیٰ درجہ کی اسامیاں جو پیش کی گئیں خود نا منظور کر دیں۔اور پھر اپنی ضروریات زندگی کو ہمیشہ بہت ہی کم اور مختصر رکھا۔طبیعت میں کبھی تعیش اور تن آسانی کی عادت کو پیدا نہ ہونے دیا۔دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی حاجات پر مقدم کرنا ہمیشہ آپ کا شعار رہا۔اور اس کو دوسروں سے مخفی رکھا۔ان حالات میں سوائے نہایت ہی ناپاک فطرت انسان کے اور کوئی سنجیدہ اور فہیم آدمی آپ کی طرف ایسی نسبت نہیں کر سکتا۔غرض قانونی امتحان کی تیاری بھی محض اس اصل پر تھی کہ دوسروں کا بھلا ہو۔لیکن بعد میں جب آپ نے غور کیا تو یہ خیال دامن گیر ہوا کہ بعض اوقات اہلِ مقدمات محض جھوٹے اور فرضی بیانات پیش کرتے ہیں اور اول سے لے کر آخر تک ساری کارروائی جھوٹی ہوتی ہے وکیل مقدمہ اس کی تائید کرتا ہے۔ہر چند وکیل عالم الغیب نہیں اور وہ نہیں جانتا کہ حقیقت کیا ہے۔اور بعض اوقات ا ترجمہ: صلحاء کے طریق اور حکماء کے مذاق کے مطابق تعاون کے فوائد اور معاونت کے منافع اس جگہ پر ظاہر ہیں کہ واجب الاطاعت اور کامل الوثوق فرمان خدا وندى عَزَّ اسْمُهُ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة: ۳) (یعنی نیکی اور تقویٰ کے امور میں تعاون سے کام لو ) بیان ہوا ہے۔پس نازل کردہ نص سے تعاون کو واجب کر دیا اور نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہو اور ظاہر ہے کہ وکالت کا منصب اور ذمہ داری نیکی اور تقویٰ کی راہ روش کے منافی نہیں ہے۔