حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 291
حیات احمد ۲۹۱ جلد اول حصہ دوم لوگ مباحثات کے عام طرز اور مناظرہ کنندگان کی حالت سے خوب واقف ہیں۔اپنے فریق مخالف یا مقابل کی بات کو جو حق ہو قبول کر لینا اور پبلک کے سامنے تسلیم کر لینا بہت ہی مشکل ہے۔میں علماء کی تحقیر نہیں کرتا مگر علماء کے لئے تو جان دے دینا آسان مگر اپنی غلطی تو در کنار فریق ثانی کی صحیح اور معقول بات کو مان لینے کی عادت بھی نہیں رہی۔مگر حضرت مسیح موعود کی حالت محض اخلاص اور مرضاة اللہ کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالطبع اس کو پسند نہیں کرتے تھے کہ مسلمانوں میں اندرونی طور پر خانہ جنگی ہو اور وہ باہم مسائل کے اختلاف پر حق پژوہی اور حق گوئی کو چھوڑ دیں۔اور پھر یہ کس قدر جرات اور دلیری ہے کہ جس شخص سے مناظرہ کرنے جاتے ہیں اس کے گھر پر پہنچتے ہیں۔کوئی روک اور جھجک طبیعت میں اس کے علم اور اثر سے نہیں لیکن اس کے منہ سے ایک حق بات سن کر اس بات کی قطعا پرواہ نہیں کی جاتی کہ لوگ کیا کہیں گے۔وہ اس کو گریز قرار دیں گے یا فریق ثانی سے مرعوب ہونے سے تعبیر کریں گے۔جو بات حق تھی اسے تسلیم کر لیا اور اس کی صحت پر اپنے اقرار سے مہر کر دی۔یہ ایک ایسا فعل ہے جس کی نظیر انبياء عليهم السّلام اور ان کے خاص متبعین کی زندگیوں کے سوا کہیں نہیں ملتی۔اخلاص في الدين اور اپنی ہوا و ہوس کو کچل دینے کا زور دار جذ بہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے مل سکتا ہے۔پھر اس فعل کی قبولیت کے آثار اسی وقت ظاہر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعے بشارت دی اور رضی اللہ عنہ کا گویا سرٹیفکیٹ عطا کر دیا۔انسان دنیا میں چاہتا ہے کہ اس کی قبولیت بڑھے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس فعل کے ثمرہ میں بتایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ وہ زمانہ ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف و ترتیت کا بھی ابھی تک خیال پیدا نہیں ہوا چہ جائیکہ کوئی دعوئی ہوتا۔دنیا سے قریباً بے تعلقی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ملازمت کے سلسلہ کو بھی ترک کر چکے ہیں۔آئندہ زندگی کے گزارہ کے خیالات گو آپ کے دل و دماغ پر متاثر نہیں۔مگر گھر والوں کو اس کا خیال ضرور ہوتا ہے کہ یہ کیا کریں گے۔حضرت والد صاحب قبلہ ابھی زندہ ہیں۔