حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 286
حیات احمد ۲۸۶ جلد اول حصہ دوم نہ ہو ) خرق عادت اور کرامت ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا (جن کی امت میں یہ الہام ہوا) معجزہ ہے۔بعض یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ ان الہامات کی انگریزی میں غلطیاں بھی ہیں جیسے کہ اس فقرہ ملہمہ میں (جو بصفحہ ۴۸۰ کتاب موجودہ ہے ) ''آئی کین ویٹ آئی ول ڈو“۔لفظ ویٹ غلط ہے صحیح اس مقام میں لفظ و ہٹ چاہیئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس غلطی کا الہام سے ہونا متعین و متیقن نہیں۔جائز وممکن ہے کہ الہام میں لفظ و ہٹ ہو۔مؤلف نے اس وجہ سے کہ وہ اس زبان اور حروف سے محض اجنبی واقعی ہے ویٹ پڑھ لیا ہو۔جو لفظ وہٹ کا ہمشکل و مشابہ ہے جیسے لفظ ویٹ جو کتاب میں مکتوب ہے اسی تشابہ کے سبب وہٹ پڑھا جا سکتا ہے۔چنانچہ ایک لائق انگریزی خوان ( سٹیشن ماسٹر بٹالہ ) سے اس غلطی کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو اس لفظ کو وہٹ ہی پڑھا تھا۔بعد تحریر اس جواب کے اُسی دن (جس دن یہ جواب لکھا جا چکا تھا ) جناب مؤلف اس شہر بٹالہ میں جہاں میں اب ہوں تشریف لائے اور آپ کی ملاقات کا اتفاق ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا کہ انگریزی الہامات بقیہ حاشیہ۔حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں طب کا بڑا چرچا تھا۔اس لئے ان کو ایسا مجرب (اندھے مادر زاد اور کوڑھے کو اچھا کرنا۔اور مردے کو زندہ کرنا ) دیا گیا۔جس نے طبیبوں کو مغلوب کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے مخاطبین وقت کو فصاحت کا ایسا دعویٰ تھا کہ وہ اپنے سوا اہل سخن نہ جانتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بلا د غیر کے لوگوں کا عَجَمُ (یعنی گونگے ) نام رکھتے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے انگریزی خوانوں پر ( جو عربی سے محض نا آشنا ہیں۔اور سماعی باتوں پر وہ ایمان نہیں لاتے ) دین محمدی اور قرآن کا صدق ظاہر کرنا چاہا تو آنحضرت کے امتیوں اور خادموں میں سے ایک شخص کو انگریزی الہامات سے جو انگریزی خوانوں کے افہام یا افحام کا باعث ہوں ) ممتاز فرمایا۔یا نوٹ : ایڈیٹر اشاعۃ السنه معجزات مسیح ناصری کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔مردے اس دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتے۔یہ قانون الہی قرآن کریم کے خلاف ہے۔(ایڈیٹر سیرت)