حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 284
حیات احمد ۲۸۴ جلد اول حصہ دوم اپنے اس ایمان کو صحیح یا کامل بناویں۔A B تیسراسر وفائدہ الہامات انگریزی زبان کا یہ ہے کہ جولوگ انگریزی زبان کے پڑھنے بولنے کو کفر سمجھتے ہیں۔انکا یہ خیالی کفر ٹوٹے۔اور ان کو (جب وہ انصاف سے کام لیں) اس مسئلہ شرعیہ کہ زبانیں سبھی خدا کی تعلیم والہام سے ہیں۔اور کسی زبان کا بولنا پڑھنا منع نہیں ہے۔اور کسی زبان کو عربی ہو خواہ فارسی، ہندی ہو خواہ انگریزی ) اس کے مضامین سے نظر اٹھا کر اچھا یا بُرا نہیں کہا جاسکتا۔(جس کا مفصل بیان وثبوت شرعی اشاعۃ السنہ نمبر 4 جلد میں گزرا ) با مشاہدہ الہام سے ثبوت ملے۔ہر چند قبل تسلیم الہام مؤلف یہ الہام انگریزی زبان ان لوگوں پر حجت نہیں ہو سکتے مگر جب وہ انصاف سے کام لیں گے اور اس بات کو کہ مؤلف براہین احمدیہ انگریزی کا ایک حرف نہیں جانتا۔اے بی سی کی صورت تک نہیں پہچانتا۔متواتر شہادت سے محقق کر لیں گے اور ان الہامات کے مضامین مشتمل اخبار غیب کو (جن پر کوئی بشر بذات خود قادر نہیں ) انصاف کی نظر سے دیکھیں گے تو انصاف ان کو ان الہامات کی تسلیم پر مجبور کر دے گا۔اس وقت ان کو اس مسئلہ قدیمہ شریعت محمدیہ کا با مشاہدہ الہام سے ثبوت ملے گا۔ان کو انصاف نصیب نہ ہو گا تو یہ فائدہ انہی لوگوں کو ہو گا جو مؤلف کو جانتے ہیں اور ان کے الہامات کو مانتے ہیں اور اس سے پہلے وہ انگریزی زبان کو بُرا جانتے تھے اور انگریزی پڑھنے والوں کو سخت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اب ان سے امید ہے کہ وہ اس متعصبانہ جاہلانہ خیال کو دماغ سے نکال دیں گے اور دنیاوی اغراض کے لئے جیسے اپنے بچوں کو فارسی ، ہندی سکھاتے ہیں انگریزی بھی سکھائیں گے۔اور اسباب ترقی محسن معاشرت سے جس میں اور لوگ بڑھے جاتے ہیں اور یہ باوجود طلب محض جہالت سے پس ماندہ ہیں حصہ پائیں گے۔بعض خوش فہم ان فوائد ظاہرہ کو سن کر غور و انصاف سے یکسو ہو کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انگریزی زبان کے الہاموں میں یہ فوائد تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کو انگریزی زبان میں الہام کیوں نہ ہوا؟ اس کا جواب ان فوائد کی تقریر کے ضمن میں ادا ہو چکا ہے۔مگر توفیق رفیق نہ ہو تو سمجھ میں