حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 274
حیات احمد ۲۷۴ جلد اول حصہ دوم کا دندان شکن جواب وہیں پاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی اُس سے دبتے نہیں تھے یہاں تک کہ بعض اوقات آپ کے دوست اور مخلص دوست لالہ بھیم سین صاحب نے مشورہ دیا کہ ترقی و کامیابی بظاہر اس شخص کے ہاتھ میں ہے مگر حضرت مسیح موعود ایسا موحد اور خدا پرست انسان اس قسم کی باتوں پر کب توجہ کر سکتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ہی ذات سے ہر قسم کی بہتری اور بھلائی وابستہ ہے یہ مردہ کیڑے کیا کر سکتے ہیں؟ اس لئے آپ اپنے فرض منصبی کو تو دیانتداری سے ادا کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے تھے اور خوشامد اور در بارداری کو اپنی وضع اور مومنانہ غیرت کے سراسر خلاف جانتے تھے۔اس بات نے اس کو اور بھی آپ کے ساتھ بدکن بنادیا تھا مگر وہ بھی آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکا کیونکہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر آپ کی لیاقت اور دیانت سے خوب واقف اور اثر پذیر تھا۔یہی سمج رام بعد میں کمشنری امرتسر میں سرشتہ دار ہو گیا تھا۔حضرت مسیح موعود کو اس کی وفات کی خبر کشفی رنگ میں دکھا دی گئی تھی چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ”میرے ایک بڑے بھائی تھے انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں پاس ہو گئے تھے اور وہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے اور نوکری کے امیدوار تھے ایک دن میں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب میں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ الٹانا چاہا تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سچ رام سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔جیسا کہ کوئی کہتا ہے میرے پر رحم کرا دو میں نے اُس کو کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہو گیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی۔بعد اس کے میں نیچے اترا اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی نوکری کے بارہ میں باتیں کر رہے تھے میں نے کہا کہ اگر پنڈت سچ رام فوت ہو