حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 273 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 273

حیات احمد ۲۷۳ جلد اول حصہ دوم جوڑا تو حجام کے حوالہ کیا۔پرانا نہیں انہیں نئے کپڑوں میں سے جو حضرت والدہ صاحبہ نے خاص اہتمام سے اس زمانہ کے حالات کے موافق اعلیٰ درجہ کے تیار کرا کر بھیجے تھے۔اثنائے گفتگو میں حجام نے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کیا حال ہے۔ملازمت آپ کو پسند ہے فرمایا۔قید خانہ ہی ہے۔پنڈت کی رام صاحب سے مقابلہ اور خود داری کا اظہار جن دنوں آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے۔ہر چند آپ معمولی درجہ کے اہلکاروں میں سے تھے مگر آپ سلف ریسپکٹ (خودداری) اور استغنا کا ایک نمونہ تھے۔آپ کی قابلیت بہر حال ضلع بھر میں مسلم تھی یہاں تک کہ تلخ تر دشمن اور آپ کے حالات کو قصہ کا رنگ دینے والا دشمن بھی اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی خدا داد قابلیت کی وجہ سے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی نظروں میں عزت رکھتے تھے۔اس وقت سیالکوٹ کے دفاتر کا سپر نٹنڈنٹ ایک شخص پنڈت سہج رام نام تھا۔وہ ایک متعصب دشمن اسلام تھا۔حضرت مسیح موعود سے وہ ہمیشہ مذہبی مباحثہ کیا کرتا تھا۔اسے یہ دھو کہ لگا ہوا تھا کہ حضرت مرزا صاحب میرے ماتحت ایک سرشتہ میں اہلکار ہیں۔اس لئے مذہبی مباحثات میں میری وجاہت اور اثر ان کو حق گوئی سے شائد روک دے گا۔لیکن حضرت مرزا صاحب جو اعلائے کلمۃ الاسلام کے لئے مبعوث ہونے والے تھے جن کی فطرت میں یہ قوت اور جوش رکھا گیا تھا کہ دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہوشیار ساری دنیا اک باولا یہی ہے وہ بھلا کب خاطر میں لا سکتے تھے۔مذہب کے معاملہ میں جب اس سے گفتگو ہوتی نہایت آزادی دلیری اور جرات سے ایسی گفتگوئیں ہوتی تھیں اور جب اسے نادم اور لا جواب ہونا پڑتا تو اپنی لا جوابی اور کمزوری کا بخار سرشتہ کے کاموں میں تعصب کے اظہار سے نکالتا۔اسے فطرتاً دین اسلام سے ایک کینہ تھا اس لئے ناممکن تھا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ اسے کچھ بھی تعلق یا لگاؤ ہوسکتا۔آپ کے ساتھ وہ برتاؤ کرنے میں اپنے تمام اخلاق اور شریفانہ تعلقات کو نظر انداز کر دیتا مگر اس کا نتیجہ عموماً یہ ہوتا کہ اگر وہ صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے بھی کوئی اعتراض کرتا تو اس