حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 18
حیات احمد ۱۸ جلد اوّل حصہ اوّل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے جو وعدے کئے گئے ہیں اس کی تفصیل بائیل میں موجود ہے اور قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی ذریت کے لئے ހނ کیا خواہش رکھتے تھے۔اس میں شک نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کو جو عظمت اور بزرگی نصیب ہوئی وہ ابراہیمی نسل کے کسی دوسرے شخص کو نہیں ملی۔لیکن اسحاق کے خاندان پر جو فضل ہوئے وہ بھی کچھ کم نہ تھے۔خدا تعالیٰ کی برگزیدہ اور منتخب قوم اسرائیل حضرت اسحاق ہی کی نسل تھی، اور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے پھر اولاد اسحق پر بھی فضل ہوا۔یہاں تک کہ آخری زمانہ کا مصلح اور موعود اسحاق کے گھرانے سے آیا۔غرض یہ بدیہی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کے متعلق اولا د اسحاق ہونے اور اس ابراہیمی گھرانے میں ایک عظیم الشان انسان کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔اور پھر تکلفات سے نہیں۔اپنے دعوئی کے بعد سالہا سال کے غور وفکر کے بعد نہیں بلکہ ایسے وقت اور ایسے حالات میں جبکہ حضرت مرزا صاحب نے کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔وہ اپنے الہامات اور مخاطبات میں ابن فارس کے نام سے پکارے گئے۔اور وہ الہامات براہین احمدیہ میں چھپے ہوئے موجود ہیں۔اس طرح پر خدا تعالیٰ کی وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی تائید کرتی ہے۔اور اگر ہم تاریخی بیانات اور روایات پر ذرا بھی بحث نہ کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے متعلق یہ ایک زبردست شہادت ہے۔جو اللہ تعالیٰ اور بقیه حاشیه : مصلحت کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک فوق الطاقت ٹھوکر کی جگہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پشت به پشت رذیل چلا آتا ہے اور لوگوں کی نظر میں نہ صرف وہ بیچ ہے بلکہ اس کا باپ اور دادا اور پڑدادا اور جہاں تک معلوم ہے قوم کے پیچ ہیں اور ہمیشہ سے شریر اور بدکار ہوتے چلے آئے ہیں اور مویشیوں کی طرح ادنی خدمتیں کرتے رہے ہیں۔اب اگر لوگوں سے اس کی اطاعت کرائی جائے تو بلاشبہ لوگ اس کی اطاعت سے کراہت کریں گے۔کیونکہ ایسی جگہ میں کراہت کرنا انسان کے لئے ایک طبعی امر ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ کا قدیم قانون اور سنت یہی ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں کو منصب دعوت و نبوت پر مامور کرتا ہے جو اعلیٰ خاندان میں سے ہوں اور ذاتی طور پر بھی چال چلن اچھے رکھتے ہوں کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال