حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 265
حیات احمد ۲۶۵ جلد اول حصہ دوم بے نہایت رحمت سے اپنے آفتاب کلام کو بھیجا۔جاننا چاہیے کہ عقل کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور ا سکے کلام حق کو پہچاننے کے لیے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بے خبر جزیرہ نشین جن کے کانوں تک رسالت نبوی کی ندا نہیں پہنچی اس ایمان کے مکلف ہیں کہ خدا تعالیٰ کو واحد جانیں اور اگر بت پرستی کریں گے تو عذاب الہی میں گرفتار ہوں گے اگر چہ رسالت نبوی کی ندا ان کے کانوں تک نہ بھی پہنچی ہو۔اب اس نعمت عظمی کا شکر ہم پر لازم ہے کہ ہم یاد حق سے غافل تھے اور ہمارے حال پر یہ مثال صادق آتی تھی کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کو کہا کہ فلاں شب کو فلاں محفل میں حاضر ہونا اور یاد دہانی کے لیے میں تیرے دامن کو یہ گرہ دے رہا ہوں۔پس وہ دامن کی گرہ ہر وقت اس کو دوست کی یاد دلاتی۔گو وہ اس محفل میں پہنچ تو گیا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اپنے دوست کی ملاقات سے رُکا رہا۔آخر کار اسکے دوست نے اس پر رحم کرتے ہوئے شمع بھیجی تا شمع کی راہنمائی سے آسانی کے ساتھ دوست کے دروازے تک پہنچ جائے۔پس جو نعمت عظمی خدائے کریم ورحیم نے ہم لوگوں پر فرمائی ہے اس کے شکر کو ہی عبادت کہتے ہیں اور وہ نعمت یہ ہے کہ پہلے ہمیں عدم سے وجود میں لایا اور اسکے بعد اپنی ذات کا جلوہ دکھایا اپنی توحید کے اقرار کو ہمارے دلوں پر ثبت کیا اور اپنے کلام کو ہمارے کانوں تک پہنچایا پھر اپنے کلام کے آفتاب کو ہم پر بھیجا۔اس امر کا جواب کہ ذات کامل الصفات کو مخلوق کی ستائیش سے کیا فخر ہوسکتا ہے یہ ہے کہ حق تعالی کی ذات وصفات کی کامل محبت تقاضا کرتی ہے کہ ہر شخص جو ہر آن گھاٹے میں جا رہا ہے۔وہ خدا کے حضور اس طرح تذلیل اختیار کرے کہ اس طریق پر اسکے افضال مخلوق کی طرف اتریں اور وہ انواع مخلوقات کی بقا کا موجب بنیں۔پس عبادت اُسی طرح حکمت کامل کی مقتضی ہے جس طرح نوع انسان کی ظاہری صورت۔اور عبادت کے تمام طریق سورہ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اسکو پڑھنا واجب اور اس کو چھوڑ نا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔اب اس سورۃ مقدسہ کے معارف بیان کیے جارہے ہیں تا تو خدا پرستی کی حقیقت کو سمجھ لے۔اللہ کا ارشاد ہے اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ محمد صرف خدا کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا