حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 17
حیات احمد ۱۷ جلد اوّل حصہ اوّل (۲) فَارِسٌ عَصْبَتُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ إِسْمَعِيْلَ عَمَّ وُلْدِ إِسْحَاقَ وَإِسْحَاقَ عَمَّ وُلْدِ اسمعيل رواه الحاکم في تاريخه عن ابن عباس - یعنی حاکم اپنی تاریخ میں ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ اے اہل بیت ! فارسی ہمارے عصبہ ہیں کیونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اولا د اسحاق علیہ السلام کے چچا ہیں اور اسحاق اولا داسمعیل کے چچا ہیں۔(کنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۶۴) ان ہر دو احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ اہل فارس حضرت اسحاق کی اولا د سے ہیں۔یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان سے بار بار اظہار محبت فرمایا اور اس کو اپنے اہل بیت میں سے بتایا۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اپنی نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے تو قابل قدر ہی تھے۔مگر چونکہ آپ کے خاندان سے ایک عظیم الشان انسان پیدا ہونے والا تھا۔اس کی بزرگی اور عظمت نے بھی ان کو وہ قدرو منزلت عطا کی۔بہر حال یہ ثابت شدہ صداقت ہے کہ اہل فارس حضرت ابراہیم کی ہی نسل سے ہیں۔اور حضرت ابراہیم کی پاک نسل سے امام ہونے کا وعدہ تھا۔اور فارسی الاصل خاندان سے بڑے بڑے ائمہ پہلے بھی پیدا ہو چکے ہیں۔بقیه حاشیه : - آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے۔اور چند دفعہ ایسے بُرے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اُسے جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مُردار کھاتے اور اور گوہ اٹھاتے ہیں۔اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو یہ ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اس گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آئے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔لیکن باوجود اس امکان پر جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔کیونکہ ایسا کرنا اُس کی حکمت اور کنز العمال كتاب الفضائل من قسم الاقوال فارس “ حدیث نمبر ۴۷۴۹۔مطبوعه مطبع دائرة المعارف النظامية حيدرآباد سن اشاعت ۱۳۱۳ھ