حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 251
حیات احمد ۲۵۱ جلد اول حصہ دوم چاہیئے انہوں نے کہا کہ کوئی چوہا ہو گا۔خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر سب سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی آواز آئی تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا۔اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور وہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جا پڑی اور سب بچ گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی معجز نما حفاظت ہے۔جب تک کہ ہم وہاں سے نکل نہ آئے شہتیر گرنے سے محفوظ رہا۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہوا پایا گیا۔اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا مگر ہر دو بار خدا نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا۔ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلا یا اور آگ کو بجھا دیا۔خدا تعالیٰ کے پاس کسی کے بچانے کی ایک راہ نہیں بلکہ بہت راہ ہیں آگ کی گرمی اور سوزش کے واسطے بھی کئی ایک اسباب ہیں اور بعض اسباب مخفی در مخفی ہیں جن کی لوگوں کو خبر نہیں اور وہ اسباب خدا تعالیٰ نے اب تک دنیا پر ظاہر نہیں کئے جن سے ان کی سوزش کی تاثیر جاتی رہے۔پس اس میں کون سی تعجب کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم پر آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ بات میں بات گو یہ ۱۹۰۳ء کی بات ہے لیکن اسی سلسلہ مضمون سے تعلق رکھتی ہے اس لئے میں اس کو یہا محض اسی تعلق کی وجہ سے لکھ دیتا ہوں۔دھرم پال نامی ایک شخص نے آریہ ہو کر ترک اسلام ایک کتاب لکھی اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی برد کنار پر بھی اعتراض تھا۔امرتسری منکر مولوی ثناء اللہ نے اس کتاب کا جواب بنام ترک اسلام لکھا۔اور اس میں اپنے اندرونی عناد اور بغض سے بلا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر بھی کسی موقعہ پر کیا۔اور لکھا کہ ان کو آگ میں ڈال دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور یہ واقعہ پیش کیا گیا۔اور تقریب یہ پیش آئی کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی اس مرتد و تارک اسلام کا جواب لکھ رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام