حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 246
حیات احمد ۲۴۶ جلد اول حصہ دوم کھیل کود عام طور پر بچوں کو فطر نا کھیل کود سے پیچھپی ہوتی ہے اور یہ کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا کہ بچے کھیل کود میں اپنا وقت صرف نہ کریں۔بلکہ تعلیم و تربیت کے حامی یہی کہتے ہیں :۔ایک نہ ایک وقت کھیلنا بھی ضرور چاہئے حضرت مسیح موعود کی فطرت اور طبیعت بالکل نرالی واقعہ ہوئی تھی۔لہو ولعب کی طرف قطعاً توجہ ہی نہیں ہوئی۔عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ آپ بچپن میں کبھی کھیل کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔اس کا اثر طبیعت میں آخر تک باقی رہا (۱۵۔فروری ۱۹۰۱ء کو قادیان کے مدرسہ تعلیم الاسلام کے لڑکوں کا گیند بلا کھیلنے کا میچ (مقابلہ ) تھا۔بچوں کی خوشی بڑھانے کے لئے بعض بزرگ بھی شامل ہو گئے کھیل میں نہیں بلکہ نظارہ کھیل کے لئے اور فیلڈ ( میدان کھیل ) میں چلے گئے۔حضرت اقدس کے صاحبزادے نے بچپن کی سادگی میں آپ کو کہا کہ ابا تم کیوں کرکٹ پر نہیں گئے؟ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ آپ پیر مہر علی شاہ گولڑی کے مقابلہ میں اعجاز المسیح لکھ رہے تھے۔بچے کا سوال سن کر جو جواب دیا وہ آپ کی فطرتی خواہش اور مقصد عظمیٰ کا اظہار کرتا ہے۔فرمایا: - میرا کرکٹ قیامت تک رہے گا ”وہ تو کھیل کود کر واپس آجائیں گے۔مگر میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جو قیامت تک باقی رہے گا۔“ یہ الفاظ میں نے آپ کی کھیل کود کے ساتھ مناسبت یا عدم مناسبت کے اظہار کے لئے اس زمانہ سے لے لئے ہیں جو اس حصہ سیرت سے تاریخی رنگ میں دور ہے۔مگر چونکہ بچپن میں بھی کھیل کو د سے دلچسپی نہ تھی اور ساری دلچپسی اللہ تعالیٰ سے تعلقات کے بڑھانے اور خدمت دین میں تھی اس لئے اس وقت بھی آپ وہ کھیل کھیل رہے تھے جو دنیا کے مذاہب باطلہ کو جیت لینے کا کھیل تھا۔