حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 244 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 244

حیات احمد ۲۴۴ جلد اول حصہ دوم ہیں اور گھنٹوں سنائے جا رہے ہیں اور حضرت ہیں کہ بڑے مزے سے سنے جارہے ہیں۔گویا کوئی مثنوی ملائے روم سنا رہا ہے۔“ یہ آپ کی طمانیت قلب کا ایک اظہار ہے۔کہانیوں کے متعلق ایک بات اور کہہ کر سر دست یہاں میں اس سلسلہ کو ختم کر دیتا ہوں۔حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ ۱۸۹۸ء کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:- آپ کے حکم اور طرز تعلیم اور قوت قدسیہ کی ایک بات مجھے یاد آئی ہے کہ دوسال کی بات ہے۔تقاضائے سن اور عدم علم کی وجہ سے اندر کچھ دن کہانی کہنے اور سننے کا چسکا پڑ گیا۔آدھی رات گئے تک سادہ اور معصوم کہانیاں اور پاک دل بہلانے والے قصّے ہو رہے ہیں۔اور اس میں عادتاً ایسا استغراق ہوا کہ گویا وہ بڑے کام کی باتیں ہیں۔حضرت کو معلوم ہوا۔منہ سے کسی کو کچھ نہ کہا۔ایک شب سب کو جمع کر کے کہا آؤ آج ہم تمہیں اپنی کہانی سنائیں۔ایسی خدا لگتی اور خوف خدا دلانے والی اور کام کی باتیں سنائیں کہ سب عورتیں گویا سوتی تھیں جاگ اٹھیں۔سب نے توبہ کی اور اقرار کیا کہ وہ صریح بھول میں تھیں اور اس کے بعد وہ سب داستانیں افسانہ خواب کی طرح یادوں ہی سے مٹ گئیں۔“ ان واقعات کے سلسلے کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تبلیغ و تلقین کے لئے ہر ایسے طریق کو اختیار کرتے جو مؤثر اور عام فہم ہوتا۔کہانیوں کے کہنے سے کبھی آپ کی غرض بدوں ہدایت اور اصلاح کے کچھ نہ تھی۔لالہ ملاوامل صاحب وغیرہ کے سامنے جو کہانیاں بیان کیں ان کی غرض بھی وہی تھی۔صاحبزادہ صاحب کو سناتے ہیں تو وہی مقصد ہے۔اور مستورات کو جمع کر کے جو کچھ فرمایا۔اس کا نتیجہ بھی وہی ہے بچوں کی تربیت کہانیوں کے ذریعہ بھی آپ پسند فرماتے تھے۔بچوں اور بچپن کے تذکرہ میں سخت فروگذاشت ہو گی اگر میں آپ کے بچپن کے ایک خاص واقعہ کا ذکر نہ کروں۔اس سے معلوم ہو گا کہ آپ کی خواہش اس عمر میں جب کہ کھیل کود کے ولولے اور امنگیں 66