حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 233 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 233

حیات احمد ۲۳۳ جلد اول حصہ دوم مجھے جانوروں کی بولیاں آ جائیں تو میں ان سے عبرت حاصل کر لیا کروں۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ عبرت اور بیداری خدا کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ،اس خیال کو چھوڑ دو۔اس میں خطرہ ہے مگر حضرت موسیٰ کے منع کرنے سے اس کو اور بھی شوق پیدا ہوا۔اور بڑی التجا کی حضرت موسیٰ نے کہا کہ اس شخص کو شیطان نے فریب دیا ہے اگر اس کو سکھاتا ہوں تو اس کو نقصان ہو گا ورنہ اسے بد گمانی ہوگی۔حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اچھا اس کو سکھا دو۔غرض حضرت موسیٰ نے اس کو کتے اور مرغ کی زبان سے واقف کر دیا۔دوسرے دن تجربہ کے لئے اس نے کتے اور مرغ کی آواز کی طرف توجہ کی۔لونڈی نے دستر خوان جو جھاڑا تو رات کے بچے ہوئے ٹکڑے اس میں سے گرے مرغ نے جھٹ وہ اٹھا کر کھالئے۔کتے نے اس کو کہا کہ تُو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا تو تو دانے وغیرہ کھا سکتا ہے میں نہیں کھا سکتا ہوں، مرغ نے اس کو کہا کہ تو غم نہ کر تجھ کو ان ٹکڑوں سے بہتر ملنے والا ہے۔خواجہ کا گھوڑا مر جائے گا وہ گوشت سوائے کتوں کے اور کس کے کام آئے گا۔اس نوجوان نے جب اس مکالمہ کو سنا تو جھٹ اس نے گھوڑا بیچ دیا۔اور اس نقصان سے وہ بچ گیا۔دوسرے دن پھر ایسا ہی اتفاق ہوا۔مرغ نے وہ ٹکڑے کھا لئے اور کتے سے پھر سوال و جواب ہوا تو مرغ نے کہا کہ گھوڑا تو بے شک مر گیا ہے مگر دوسری جگہ جا کر کیونکہ اس نے بیچ دیا تھا۔خیر کوئی فکر کی بات نہیں اب کل اونٹ مر جائے گا اور تمہاری عید ہو جائے گی۔اس شخص نے اونٹ کو بھی بیچ دیا۔تیسرے دن پھر دونوں میں مکالمہ ہوا۔اور کتے نے اس کو الزام دیا۔مگر مرغ نے پھر وہی جواب دیا کہ اونٹ بھی اس نے بیچ دیا ہے اور وہ دوسری جگہ جا کر مر گیا ہے، خیر کوئی بات نہیں کل اس کا غلام مر جائے گا۔تو اس کی وفات پر کتوں اور عزیزوں کو نان ملیں گے۔اس شخص نے غلام کو بھی بیچ دیا۔اب وہ مرغ اس کتے کے سامنے چوتھے دن بہت ہی شرمندہ ہوا۔مرغ نے کہا یہ مت خیال کر کہ میں نے جھوٹ کہا جو کچھ میں نے خبر دی تھی وہ بالکل درست تھی ہماری قوم تو بڑی راستباز ہے اور وقت کی نگران ہے اگر ہم کو بند بھی کیا ہوا ہو تب بھی ٹھیک وقت پر ہم اذان دیتے ہیں خیر جو کچھ بھی ہو گیا سو ہو گیا اب کل یہ خود مرے گا اور خوب تمہاری عید ہو گی۔اگر یہ شخص گھوڑے یا اونٹ یا غلام کی پروا نہ کرتا تو