حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 227 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 227

حیات احمد ۲۲۷ جلد اول حصہ دوم لالہ ملاوائل صاحب سے ابتدائی ملاقات اور تبلیغ اسلام کا پُر جوش فطرتی جذبہ لالہ ملا وامل صاحب (جن کا ذکر اس سیرت میں متعدد مرتبہ انشاء اللہ آئے گا ) اپنی ابتدائی ملاقات کا ذکر یوں بیان کرتے ہیں کہ میں پرائمری سکول قادیان کی تعلیم سے فارغ ہو چکا تھا اور قادیان ہی میں میاں شمس الدین صاحب مرزا کمال الدین صاحب اور ایک اور استاد سے بطور خود تعلیم پایا کرتا تھا۔مرزا صاحب کے پاس میری آمد و رفت قطعا نہ تھی۔ایک روز عشاء کی نماز سے پہلے میں اپنے استاد مولوی پیر محمد صاحب مرحوم کے ہمراہ بڑی مسجد میں چلا گیا۔مرزا صاحب نمازیں وہیں پڑھا کرتے تھے۔مولوی پیر محمد صاحب سے انہوں نے پوچھا کہ یہ لڑکا کون ہے؟ مولوی پیر محمد صاحب نے بتایا کہ لالہ سوہن لال صاحب کا بیٹا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے نماز عشاء سے پہلے مجھے اسلام کے متعلق تبلیغ کرنا شروع کی۔اسلام کی خوبیوں اور دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر تبلیغ کرتے تھے۔میں نے ان میں سے بعض باتوں کا جو ہمارے مذہب کے خلاف تھیں جواب دینا چاہا۔مولوی پیر محمد صاحب نے مجھے روک دیا تب میں استاد کا ارشاد سمجھ کر خاموش ہو گیا اور حضرت مرزا صاحب نے مجھے تبلیغ کر کے اپنی تقریر ختم کی۔وہ نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئے اور میں چلا آیا۔کچھ دنوں کے بعد ایک صحاف (کتب فروش) قادیان آیا میں بھی کوئی کتاب لینی چاہتا تھا۔میں اس کی تلاش میں حضرت مرزا صاحب کے مکانوں کی طرف چلا گیا اور اوپر اس چوبارہ پر جہاں حضرت مرزا صاحب عموماً رہتے تھے گیا۔مرزا صاحب وہاں ٹہل رہے تھے انہوں نے مجھے دیکھ کر بلا لیا اور فرمایا کہ کبھی کبھی آ جایا کرو۔چونکہ وہ ایک علم دوست اور نیک آدمی تھے میں نے ان کی صحبت کو پسند کیا۔کیونکہ وہاں علمی اور اخلاقی باتوں کے سوا اور کچھ تو تھا ہی نہیں۔پھر یہ تعلق اس قدر بڑھا کہ چھ ماہ کے اندر ہم بے تکلف واقف ہو گئے۔اس کے بعد ایک مرتبہ حضرت مرزا صاحب نے مجھے فرمایا کہ شربتوں کی ضرورت رہتی ہے ملتے نہیں، میں نے کہا کہ میں بنا دیا کروں گا۔چنانچہ میں نے سب سے پہلے ان کے لئے نیلوفر کا شربت تیار کیا۔شربت عمدہ اور