حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 13
حیات احمد ۱۳ جلد اوّل حصہ اوّل يَلْحَقُوْابِهِمْ (الجمعة(۴) اتری تو ہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت میں موجود ہے۔اس وقت سلمان فارسی بھی ہمارے درمیان تھے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا ہوگا تو ان لوگوں میں سے بعض ہوں گے جو اس کو واپس لائیں گے۔(اس حدیث پر بخاری اورمسلم کا اتفاق ہے۔مشکوۃ جلد دوم صفر ۳۵۲) (۲)۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھا۔وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ (محمد:۳۹) تو آپ کے صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں۔جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس عظمت کے ساتھ کیا ہے۔تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا۔یہ اور اس کی قوم، اگر دین ثریا میں ہوگا تو اہل فارس اس کو لے آئیں گے۔( اس حدیث کو تر مذی نے روایت کیا ہے۔مشکوۃ جلد دوم صفحہ ۳۴۵۶ ) اس کی تائید میں کتب احادیث میں اور احادیث بھی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا۔جو اپنے کاموں اور خصوصیات کے لحاظ سے صحابہ کے برابر مدارج پانے والی تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کندھے پر بقیه حاشیه : - غضب کے نیچے ہے اور خدا کا عام قانون یہی ہے کہ اسلام کے بعد قوموں کی تفریق مٹادی جاتی ہے اور پیچ او نچ کا خیال دور کیا جاتا ہے۔ہاں قرآن شریف سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ بیاہ اور نکاح میں تمام قو میں اپنے قبائل اور ہم رتبہ قوموں میں یا ہم رتبہ اشخاص اور کفو کا خیال کر لیا کریں تو بہتر ہے تا اولا د کے لئے کسی داغ اور تحقیر اور ہنسی کی جگہ نہ ہو لیکن اس خیال کو حد سے زیادہ نہیں کھینچنا چاہئے کیونکہ قوموں کی تفریق پر خدا کی کلام نے زور نہیں دیا۔صرف ایک آیت سے کفو اور حسب نسب کے لحاظ کا استنباط ہوتا ہے اور قوموں کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مدت دراز کے بعد شریف سے رذیل اور رذیل سے شریف بن جاتی ہے اور ممکن ہے مثلاً بھنگی یعنی چوہڑے یا چمار جو ہمارے ملک میں سب قوموں سے رذیل تر خیال کئے جاتے ہیں کسی زمانے میں شریف مشكواة المصابيح۔كتاب المناقب والفضائل باب جامع المناقب - الفصل الاول حدیث نمبر ۶۲۱۲ مشكواة المصابيح۔كتاب المناقب و الفضائل باب جامع المناقب - الفصل الثانی حدیث نمبر ۶۲۵۳