حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 209
حیات احمد ۲۰۹ جلد اول حصہ دوم غیر متناہی مدت سے تمام ارواح حالت تعطل اور بیکاری میں پڑے رہے ہوں پھر پیچھے سے ایشر کو یہ خیال آیا کہ فارغ رہنا ان روحوں کا اچھا نہیں۔پس اسی دن سے جو ایشر کے دل میں یہ خیال اٹھا تو سب روحوں کو انسان اور حیوان اور کیڑے مکوڑے بنا کر جنم مرن کی مصیبت میں ڈال دیا اور اسی زمانہ میں مکتی بھی شروع ہو گئی۔اس صورت میں تناسخ اور مکت یابی کا ابتدا ہونا روحوں کے انادی ہونے میں کچھ خلل نہیں ڈال سکتا۔سبحان اللہ کیا اچھا جواب ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اب آریہ سماج والے فکر دقیق میں بہت ترقی کر گئے ہیں تبھی تو ایسے ایسے عمدہ جواب دینے لگے۔بھلا صاحب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ تمام ارواح قبل تناسخ اور مکت یابی کے دکھوں دردوں میں مبتلا تھے۔یا راحت اور آسائش میں اگر دکھوں میں مبتلا تھے تو کس عمل کی شامت سے اور اگر راحت میں تھے تو کس کار خیر کے پاداش میں۔علاوہ اس کے اگر پہلے مکت یابی سے خوشحال اور مسرور تھے تو پھر ان کو مکت کا طلب کرنا تحصیل حاصل تھا۔پس یہی ماننا پڑا کہ موجود نہ تھے۔اگر یہ کہو کہ اگر چہ پہلے بھی آرام میں تھے پھر اُن کو گردش تناسخ میں اس واسطے ڈالا گیا کہ خدا کی شناخت حاصل کریں تو جواب ظاہر ہے کہ جبکہ روحوں کو غیر متناہی مدت میں خدا کے ساتھ رہ کر اور اس کا ہم صحبت ہو کر بلکہ دائمی شریک بن کر خدا کی شناخت حاصل نہ ہوئی تو پھر کیڑے مکوڑے بن کر کیا ذخیرہ معارف کا اکٹھا کر سکتے ہیں۔بلکہ ناکردہ گناہ طرح طرح کی تکلیفات جنم مرن میں ڈالنا برخلاف اصول آریہ سماج کے ہے اور اسی سے تو حضرت تناسخ صاحب جزیرۂ عدم کی طرف سدھارتے ہیں۔علاوہ اس کے تعطل ارواح بھی بموجب اصول آریہ سماج کے قطعاً نا جائز ہے پھر غیر متناہی تعطل کس طرح جائز ہو۔پس ایسا خیال کہ ارواح انا دی ہیں۔سراسر باطل۔روحوں کے تعداد معتین سے زائد نہ پیدا ہونے کا ابطال ا پھر مدرس صاحب لکھتے ہیں کہ بار بار پیدا ہونا روحوں کا غیر ممکن ہے بلکہ جتنے روح پیدا ہو سکتے تھے وہ قدیم سے موجود ہیں اور آگے کو قدرت خالقیت کی مفقود ہے۔یہ ایسی تقریر ہے کہ جس کو