حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 208 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 208

حیات احمد ۲۰۸ جلد اول حصہ دوم سوا اس کے جب دوسری شق کی طرف غور کی جاتی ہے کہ آیا روحوں کے آدمی ہونے کی بابت کوئی دلیل پختہ ہے یا نہیں۔تو ایسے دلائل پختہ اور یقینی ملتے ہیں جو انسان کو بجز ماننے ان کے کچھ بن نہیں پڑتا۔اس بارے میں ہم مضمون سابقہ میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔اب اعادہ کرنا غیر ضروری ہے۔لیکن ایک نئی دلیل جس سے روحوں کے انادی ہونے کے ابطال میں قطعی فیصلہ ہو گیا بلکہ فیصلہ کیا قلعی ہی کھل گئی۔اس مضمون میں بھی درج کی جاتی ہے۔روحوں کے انادی نہ ہونے پر دوسری دلیل اور تمہید اس دلیل کی یہ ہے کہ آریہ سماج والے بموجب اصول مسلّمہ اپنے کے خود اقرار کر چکے ہیں کہ ارواح موجودہ سوا چار ارب کے پیمانہ سے زیادہ نہیں۔جتنے ہیں اور جس قدر ہیں اسی پیمانہ سے شروع ہوتے ہیں اور اسی کے اندر اندر ختم ہو جاتے ہیں اور نیز یہ بھی اقرار ہے کہ فرودگاہ تمام روحوں کا یہی کرہ زمین معلوم و محدود ہے۔اور اسی سکول میں سب ارواح تعلیم پاتے اور علم سیکھتے ہیں۔بلکہ جتنے ارواح آج تک عہدہ مکتی کا پاچکے ہیں۔وہ سب اسی چھوٹے سے مدرسہ کے پاس یافتہ ہیں۔اب ظاہر ہے کہ ان اقرارات سے صاف ثابت ہو گیا کہ ارواح موجودہ بے انت نہیں ہیں۔بلکہ بوجہ محدود زمانی اور مکانی ہونے کے کسی اندازہ مقرری میں حصر کئے گئے ہیں۔پس جبکہ یہ حال ہے۔تو اب ناظرین خود غور فرما دیں کہ اس صورت میں یہ قول مدرس صاحب کا کہ ارواح موجودہ ضرور انادی ہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے۔کیونکہ جس حالت میں ارواح بے انت نہ ہوئے بلکہ کسی خاص تعداد میں محصور ٹھہرے تو بالضرورت ان کے تناسخ اور مکت یابی کا کوئی ابتدا ماننا پڑا۔یعنی وہ زمانہ کہ جس میں پہلے پہل کسی روح نے کوئی جنم لیا تھا۔یا عہدہ مکتی کا پایا تھا۔پس جب ابتدا تناسخ اور مکتی یا بی کا قرار دیا گیا تو ارواح انادی نہ رہے کیونکہ انادی وہ چیز ہے کہ جس کا کوئی ابتدا نہ ہو۔پس ثابت ہو گیا کہ آدی ہیں اور یہی مطلب تھا۔(اب کہو حضرت کیا خبر ہے۔اب بھی آپ روحوں کو انادی کہتے رہو گے ) بعض صاحبوں نے یہ جواب دیا ہے۔کہ ممکن ہے کہ پہلے ایک