حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 200 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 200

حیات احمد ۲۰۰ جلد اول حصہ دوم میں بے انت ہیں سب کے سب دنیا کی طرف حرکت کرتے ہیں۔اگر اسی طرح اپنے بھائیوں مکتی یافتوں کی طرف حرکت کریں تو اس میں استبعاد عقلی کیا ہے اور کون سی حجت منطقی اس حرکت سے ان کو روکتی ہے اور کس برہان لمّی یا انی سے لازم آتا ہے کہ دنیا کی طرف انتقال ان سب کا ہر سرشٹی کے دورہ میں جائز بلکہ واجب ہے۔لیکن کوچ ان سب کا مکتی یافتوں کے کوچہ کی طرف ممتنع اور محال ہے۔مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس عالم دنیا کی طرف کون سی پختہ سڑک ہے کہ سب ارواح اس پر بآسانی آتے جاتے ہیں۔ایک بھی باہر نہیں رہ جاتی اور ان مکتی یافتوں کے راستہ میں کون سا پتھر پڑا ہوا ہے کہ اس طرف ان سب کا جانا ہی محال ہے۔کیا وہ خدا جوسب ارواح کو موت اور جنم دے سکتا ہے سب کو مکتی نہیں دے سکتا۔جب ایک طور پر سب ارواح کی حالت متغیر ہوسکتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ دوسرے طور سے وہ حالت قابل تغیر نہیں اور نیز کیا یہ بات ممکن نہیں کہ جو خدان سب ارواح کا یہ نام رکھ دے کہ مکتی یاب ہیں جیسا اب تک یہ نام رکھا ہوا ہے کہ مکتی یاب نہیں۔کیونکہ جن چیزوں کی طرف نسبت سلبی جائز ہو سکتی ہے بے شک ان چیزوں کی طرف نسبت ایجابی بھی جائز ہے۔اور نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ قضیہ کہ سب ارواح موجودہ نجات پا سکتے ہیں اس حیثیت سے زیر بحث نہیں کہ محمول اس قضیہ کا جو نجات عام ہے۔مثل کسی جز کی حقیقی کے قابل تنقیح ہے بلکہ اس جگہ مجوث عنہ امریکی ہے۔یعنی ہم کلی طور پر بحث کرتے ہیں کہ ارواح موجودہ نے جو ابھی مکتی نہیں پائی۔آیا بموجب اصول آریہ سماج کے اس امر کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں کہ کسی طور کا عارضہ عام خواہ مکتی ہو یا کچھ اور ہو ان سب پر طاری ہو جائے سو آریہ صاحبوں کے ہم ممنون منت ہیں جو انہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ یہ عارضہ عام بعض صورتوں میں سب ارواح پر واقعہ ہے۔جیسے موت اور جنم کی حالت سب ارواح پر عارض ہو جاتی ہے۔اب باوا صاحب خود ہی انصاف فرما دیں کہ جس حالت میں دو مادوں میں اس عارضہ عام کے خود ہی قائل ہو گئے تو پھر اس تیسرے مادے میں جو سب کا مکتی پانا ہے انکار کرنا کیا وجہ ہے؟ پھر باوا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علاوہ زمین کے سورج اور چاند اور سب ستاروں میں بھی