حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 11
حیات احمد 11 جلد اول حصہ اوّل برکت والا اور عالی ذات ہے۔اس نے تیری بزرگی کو زیادہ کیا۔اب سے تیرے باپ دادا کا ذکر منقطع ہوگا۔اور ابتدا خاندان کا تجھ سے کیا جائے گا۔گویا حضرت مسیح موعود کو خاندان کے لحاظ سے دونوں خوبیاں حاصل ہیں۔اس لحاظ سے کہ وہ عظیم الشان انسان ہے جو بجائے خود ایک عالی خاندان کا بانی ہوا۔اور جبکہ وہ خود بھی ایک عظیم الشان خاندان کا فرد ہو۔تو یہ نُورٌ عَلَى نُور ہے۔مامورین اور مرسلین کے لئے جو دنیا میں تبلیغ پیغام حق کے لئے منہاج نبوت پر آتے ہیں یہ لازمی امر ہے کہ ذوالنسب ہوں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پر مفصل بحث کی ہے اس لطیف بحث کو پڑھ کر ناظرین معلوم کر سکتے ہیں کہ مامور کے لئے ذوالنسب ہونا ضروری ہے۔اور تکمیل تقوے کے دروازے کسی قوم اور جسم پر موقوف نہیں۔اس لئے اب میں اس کے بعد حضرت مسیح موعود کے خاندان کے متعلق ایک ضروری تنقید اور تحقیق پیش کرتا ہوں۔حاشیہ: - یہ الہام که اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسَبَ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے تجھے ہر ایک پہلو اور ہر ایک طرف سے خاندانی نجابت کا شرف بخشا ہے۔کیا تیرا آبائی خاندان اور کیا دامادی کے رشتہ کے خاندان دونوں برگزیدہ ہیں۔یعنی جس جگہ تعلق دامادی کا ہوا ہے وہ بھی شریف خاندان سادات ہے اور تمہارا آبائی خاندان بھی جو بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے مرکب ہے۔خدا کے نزدیک شرف اور مرتبت رکھتا ہے۔اس جگہ یاد رہے کہ اس الہام کے اندر جو میرے خاندان کی عظمت بیان کرتا ہے ایک عظیم الشان نکتہ مخفی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور رسول اور نبی جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور خدا ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے مامور نہیں ہوتے۔بلکہ ان کا کاروبار اپنے نفس تک ہی محدود ہوتا ہے۔اور ان کا کلام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقوی اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور حتی الوسع خدا تعالے کی ادق۔ادق رضا مندی کی راہوں پر چلتے اور اس کے بار یک وصایا کے پابند رہتے ہیں۔اور ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علو نسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو بلکہ حسب آیت کریمہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ الفُكُمْ (الـــحــجـــرات :١٣) صرف ان کی تقوی دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے۔