حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 198 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 198

حیات احمد ۱۹۸ جلد اول حصہ دوم بے انت کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ جب ایک جگہ تشریف لے گئے تو دوسری جگہ خالی رہ گئی۔اگر پر میشور بھی اس طرح کا بے انت ہے تو کارخانہ خدائی کا معرض خطر میں ہے۔افسوس کہ آپ نے ہمارے ان پختہ دلائل کو کچھ نہ سوچا اور کچھ غور نہ کیا اور یونہی جواب لکھنے کو بیٹھ گئے حالانکہ آپ کی منصفانہ طبیعت پر یہ فرض تھا کہ اپنے جواب میں اس امر کا التزام کرتے کہ ہر ایک دلیل ہماری تحریر کر کے اس کے محاذات میں اپنی دلیل لکھتے۔پر کہاں سے لکھتے اور تعجب تو یہ ہے کہ اسی جواب میں آپ کا یہ اقرار بھی درج ہے کہ ضرور سب ارواح ابتدا سرشٹی میں زمین پر جنم لیتے ہیں اور مدت سوا چار ارب سے سلسلہ دنیا کا بنا رہتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔اب اے میرے پیارو اور دوستو! اپنے دل میں آپ ہی سوچو۔اپنے قول میں خود ہی غور کرو کہ جو پیدائش ایک مقررہ وقت سے شروع ہوئی اور ایک محدود مقام میں ان سب نے جنم لیا۔اور ایک محدود مدت تک ان کے توالد و تناسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو ایسی پیدائش کس طرح بے انت ہوسکتی ہے۔آپ نے پڑھا ہوگا کہ بموجب اصول موضوعہ فلسفہ کے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جو چند محدود چیزوں میں ایک محدود عرصہ تک زیادتی ہوتی رہی تو بعد زیادتی کے بھی وہ چیزیں محدود ر ہیں گی۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر متعدد جانور ایک متعدد عرصہ تک بچے دیتے رہیں تو ان کی اولاد بموجب اصول مذکور کے ایک مقدار متعدد سے زیادہ نہ ہوگی اور خود از روئے حساب کے ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر پیدائش سوا چار ارب میں ہوتی ہے اگر بجائے اس مدت کے ساڑھے آٹھ ارب فرض کریں تو شک نہیں کہ اس صورت مؤخر الذکر میں پہلی صورت سے پیدائش دو چند ہو گی۔حالانکہ یہ بات اصلی بدیہات ہے کہ بے انت کبھی قابل تضعیف نہیں ہوسکتا۔اگر ارواح بے انت ثابت ہوتے تو ایسی مدت معدود میں کیوں محصور ہو جاتے کہ جن کے اضعاف کو عقل تجویز کر سکتی ہے اور نہ کوئی دانا محدود زمانی اور مکانی کو بے انت کہے گا۔باوا صاحب براہ مہربانی ہم کو بتلا دیں کہ اگر سوا چار ارب کی پیدائش کا نام بے انت ہے۔تو ساڑھے آٹھ ارب کی پیدائش کا نام کیا رکھنا چاہیئے۔غرض یہ قول صریح باطل ہے کہ ارواح موجودہ محدود زمانی اور مکانی ہو کر پھر بھی