حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 192 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 192

حیات احمد ۱۹۲ جلد اول حصہ دوم رائے ظاہر نہیں کی۔غرض کوئی رائے میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس صورت سے تحریر نہ ہو کہ اصل وجوہات متخاصمین کو پورا پورا بیان کر کے تقریر مدلل ظاہر کرے کہ کس طور سے یہ وجوہات ٹوٹ گئیں یا بحال رہیں اور علاوہ اس کے یہ سب منصفانہ آراء سے سفیر ہند میں درج ہوں گے۔نہ کسی اور پر چہ میں۔بلکہ صاحبان منصفین اپنی اپنی تحریر کو براہ راست مطبع ممدوح الذکر میں ارسال فرمائیں گے۔باستثنا با بوڑ لیا رام صاحب کے اگر وہ اس شوری تنقید جواب میں داخل ہوئے تو ان کو اپنا رائے اپنے پرچہ میں طبع کرنا اختیار ہو گا۔اور جب کہ یہ سب آرائے بقید شرائط متذکرہ بالا کے طبع ہو جائیں گی۔تو اس وقت کثرت رائے پر فیصلہ ہو گا۔اور اگر ایک نمبر بھی زیادہ ہو۔تو باوا صاحب کو ڈگری ملے گی۔ورنہ آنجناب مغلوب رہیں گے۔اشتہار مبلغ پانچ سو تو پیه ۱۸۷۸ء میں راقم اس سوال کا جو آریہ سماج کی نسبت پر چہ 9 فروری اور بعد اس کے سفیر ہند میں بدفعات درج ہو چکا ہے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کر کے لکھ دیتا ہوں کہ اگر باوا نرائن سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب منجملہ آریہ سماج کے جو ان سے متفق الرائے ہوں ہماری ان وجوہات کا جواب جو سوال مذکورہ میں درج ہے اور نیز ان دلائل کی تردید جو تبصرہ بشمولہ اشتہار ہذا میں مبین ہے پورا پورا ادا کر کے بدلائل حقہ یقینیہ یہ ثابت کر دے کہ ارواح بے انت ہیں اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں تو میں پانچ سو روپیہ نقد اس کو بطور جرمانہ کے دوں گا اور درصورت نہ ادا ہونے روپیہ کے مجیب مثبت کو اختیار ہوگا کہ امداد عدالت سے وصول کرے۔تنقید جواب کی اس طرح عمل میں آوے گی۔جیسے تنقیح شرائط میں او پر لکھا گیا ہے۔اور نیز جواب باوا صاحب کا بعد طبع اور شائع ہونے تبصرہ ہمارے کے مطبوع ہوگا۔“ المشتهر - مرزا غلام احمد۔رئیس قادیان ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۱ ۱۲ بار دوم )