حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 191 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 191

حیات احمد ۱۹۱ جلد اول حصہ دوم (۴) شرط چہارم میں باوا صاحب نے صاحبان مندرجہ ذیل کو منصفان تنقید جواب قرار دیا ہے۔مولوی سید احمد خان صاحب منشی کنہیا لال صاحب منشی اندر من صاحب۔مجھ کو منصفان مجوزہ باوا صاحب میں کسی نہج کا عذر نہیں۔بلکہ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جو انہوں نے تجویز تقر ر ثالشان میں مولوی سید احمد خان صاحب کا نام بھی جو ہم سے اخوت اسلام رکھتے ہیں درج کر دیا۔اس لئے میں بھی اپنے منصفان مقبولہ میں ایک فاضل آریہ صاحب کو جن کی فضیلت میں باوا صاحب کو بھی کلام نہیں۔باعتماد طبیعت صالحانہ اور رائے منصفانہ ان کی کے داخل کرتا ہوں۔جن کے نام نامی یہ ہیں۔سوامی پنڈت دیانند سرسوتی ،حکیم محمد شریف صاحب امرتسری۔مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب لاہوری۔لیکن اتنی عرض اور ہے کہ علاوہ ان صاحبوں کے کہ فریقین کے ہم مذہب ہیں۔دو صاحب مسیحی مذہب بھی ممبر تنقید جواب کے قرار پانے چاہیئیں۔سو میری دانست میں پادری رجب علی صاحب اور بابور لیا رام صاحب جو علاوہ فضیلت علمی اور طبیعت منصفانہ کے اس بحث جاری شدہ سے بخوبی واقف ہیں۔بشرطیکہ صاحبین موصوفین براہ مہربانی اس شوری میں داخل ہونا منظور کر لیں اور آپ کو بھی اس میں کوئی کلام نہ ہو بہتر اور انسب ہیں۔ورنہ بالآخر اس طرح تجویز ہوگی کہ ایک صاحب مسیحی مذہب کو آپ قبول کر کے اطلاع دے دیں اور ایک کے اسم مبارک سے میں مطلع کروں گا۔اور تصفیہ اس طرح پر ہو گا کہ بعد طبع ہو نے جواب آپ کے ان صاحبوں کو جو حسب مرضی فریقین ثالث قرار پائے ہیں۔بذریعہ خانگی خطوط کے اطلاع دی جائے گی۔لیکن ہر ایک فریق ہم دونوں میں سے ذمہ وار ہو گا کہ اپنے منصفین مجوزہ کو آپ اطلاع دے۔تب صاحبان منصفین اوّل ہمارے سوال نمبرا کو دیکھیں گے اور بعد اس کے تبصرہ مشمولہ شرائط ہذا کو جس میں آپ کے جواب الجواب کا جو ۱۸ فروری آفتاب پنجاب میں طبع ہوا تھا ازالہ ہے بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔پھر آپ کا جواب بند بر تمام پڑھ کر جانچیں گے کہ آیا اس جواب سے وجوہات ہمارے رد ہو گئے یا نہیں اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آپ نے باثبات دونوں امر مندرجہ اشتہار کے کیا کیا وجوہات پیش کئے ہیں لیکن یہ امر کسی منصف کے اختیار میں نہ ہوگا کہ صرف اس قدر رائے ظاہر کرے کہ ہماری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ اگر کوئی ایسی رائے ظاہر کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے کوئی