حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 190
حیات احمد ۱۹۰ جلد اول حصہ دوم (۲) شرط دوئم باوا صاحب کی اس طرح پر پوری کر دی گئی ہے۔جو ایک خط بقلم خود تحریر کر کے باقرار مضمون مشتہرہ کے خدمت مبارک بادا صاحب میں ارسال کیا گیا ہے۔باوا صاحب خوب جانتے ہیں جو اول تو خود اشتہار کسی مشتہر کا جو با ضابطہ کسی اخبار میں شائع کیا جاوے قانونا تا ثیر ایک اقرار نامہ کی رکھتا ہے۔بلکہ وہ بلحاظ تعد دنقول کے گویا صد ہا تمسک ہیں۔علاوہ ازاں چٹھیات خانگی بھی جو کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں عدالت میں پیش کئے جاویں ایک قومی دستاویز ہیں اور قوت اقرار نامہ قانونی کے رکھتے ہیں۔سوچٹھی خاص بھی بھیجی گئی ماسوائے اس کے جب کہ اس معاملہ میں اشتہارات زبانی ثالثوں کے بھی موجود ہوگی تو پھر باوجود اس قدر انواع و اقسام کے ثبوتوں کے حاجت کسی عہد نامہ خاص کی کیا رہی۔لیکن چونکہ مجھ کو اتمام حجت مطلوب ہے اس لئے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اس ثبوت پر کفایت نہ کر کے پھر باوا صاحب اقرار نامہ اشٹام کا مطالبہ کریں گے تو فوراً اقرار نامہ مطلوبہ ان کا معرفت مطبع سفیر ہند کے یا جیسا مناسب ہو خدمت میں ان کی بھیجا جاوے گا۔لیکن باوا صاحب پر لازم ہو گا کہ در صورت مغلوب رہنے کے قیمت اشٹام کی واپس کریں۔(۳) شرط سوم میں باوا صاحب روپیہ وصول ہونے کا اطمینان چاہتے ہیں۔سو واضح ہو کہ اگر باوا صاحب کا اس سے دل دھڑکتا ہے کہ اگر روپیہ وقت پر ادا نہ ہو تو کس جائیداد سے وصول ہوگا تو اس میں یہ عرض ہے کہ اگر باوا صاحب کو ہماری املاک موجودہ کا حال معلوم نہیں۔تو صاحب موصوف کو ایسے قلیل معاملہ میں زیادہ آگاہ کرنا ضروری نہیں صرف اس قدر نشاندہی کافی ہے کہ در صورت تردد کے ایک معتبر اپنا صرف بٹالہ میں بھیج دیں اور ہمارے مکانات اور اراضی جو قصبہ مذکور میں قیمتی چھ سات ہزار کے موجود اور واقع ہیں ان کی قیمت تخمینی دریافت کر کے اپنے مضطرب دل کی تسلی کر لیں۔اور نیز یہ بھی واضح ہو جو بمجرد جواب دینے کے مطالبہ روپیہ کا نہیں ہوسکتا جیسا کہ باوا صاحب کی تحریر سے مفہوم ہوتا ہے۔بلکہ مطالبہ کا وہ وقت ہو گا جب کل آرائے تحریری ثالشان اہل انصاف کے جن کے اسمائے مبارکہ تنقیح شرط چہارم میں ابھی درج کروں گا۔سفیر ہند میں بشرائط مشروط پر چہ ہذا کے طبع ہوکر شائع ہو جائیں گی۔