حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 182 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 182

حیات احمد ۱۸۲ جلد اول حصہ دوم جناب پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کا فیصلہ حضرت مسیح موعود اور سوامی دیانند صاحب کے مباحثہ پر پنڈت شونرائن اگنی ہوتری مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان اور آریہ سماج کے عنوان سے اپنے رسالہ بابت جولائی ۱۸۷۸ء میں لکھتے ہیں:۔سوامی دیانند سرسوتی مذہب کا جس قدر وعظ کرتے ہیں اور اس کے متعلق جن مسائل کا بیان فرماتے ہیں وہ سب وید کے موافق کہتے ہیں ان کے مقلد یہ یقین کر کے اور وید کو خدا کا کلام مان کر اندھا دُھند کچھ سوامی صاحب کے منہ سے سن لیتے ہیں۔وہ خواہ کیسا ہی علم و عقل کے مخالف ہومگر اس کے پیرو ہو جاتے ہیں۔چنانچہ چند ماہ سے بعض آریہ سماج کے لائق ممبروں اور ہمارے رسالہ کے مضمون نگار صاحب کے درمیان جو کچھ مباحثہ جاری ہے۔اس سے ہمارے ناظرین بخوبی واقف ہیں۔سوامی صاحب کے مقلد باوجود خدا کے قائل ہونے کے سوامی جی کی ہدایت کے موافق یا یوں کہو کہ وید کے احکام کے موافق اپنا یہ یقین ظاہر کرتے ہیں کہ ارواح بے انت یعنی لا انتہا ہیں اور خدا ان کا پیدا کرنے والا نہیں ہے اور جب سے خدا ہے۔تب ہی سے ارواح بھی ہیں۔یعنی وہ انادی ہیں اور نیز خدا کو ارواح کی تعداد کا علم نہیں ہے۔ما سوائے کسی روح کو نجات ابدی نہیں حاصل ہوتی اور وہ ہمیشہ تناسخ یعنی آواگون کے سلسلہ میں مبتلا رہتی ہے۔ہم اگر چہ ان میں سے کسی مسئلہ کے قائل نہیں ہیں اور حقیقت کے مخالف ہونے کے باعث ان کو محض بیہودہ اور لغو خیال کرتے ہیں۔تاہم اس رنج طبعی سے بھی ہم اپنے آپ کو بری نہیں دیکھتے کہ ہمارے بہت سے ہم وطن باوجود علم و عقل رکھنے کے پھر ان کے فیض سے فیضیاب نہیں ہوتے اور مثل ایسے لوگوں کے جن کے دماغ علم اور عقل سے خالی ہیں محض تقلید کی غلامی کرتے ہیں۔باوجود دولت رکھنے کے پھر اس کو کام میں نہیں لاتے اور مفلسانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔باوجود سو جاکھے ہونے کے آفتاب نیمروز کی روشنی میں بھی اندھوں کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ابھی تک آریہ سماج والے ارواح کے بے انت ہونے