حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 181 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 181

حیات احمد ۱۸۱ جلد اول حصہ دوم نے تحریراً اس معاملہ میں آنے سے پر ہیز کیا۔گو اس کے اسباب بیان کرنے سے ہم قاصر ہیں مگر یہ امر واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے مطالبہ کا جواب تحریر ا دینے سے خاموشی اختیار کی۔کوئی اس کا نام کچھ رکھے۔مگر حقیقتا آپ کی ایک فتح تھی۔بہر حال ان کے اس پیام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل اعلان یا کھلا خط شائع کیا۔سوامی دیانند کے نام کھلا خط بصورت اعلان یہ کھلا خط لاہور کے رسالہ برادر ہند (جس کے ایڈیٹر جناب پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری تھے ) بابت جولائی ۱۸۷۸ء میں شائع کرا دیا۔اور پھر جواب کا انتظار کرنے لگے۔مگر پنڈت دیانند صاحب کو حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ اس مباحثہ میں آتے۔اس اعلان پر پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری نے اپنی رائے نہایت آزادانہ الفاظ میں ظاہر کی اور انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ حضرت مرزا صاحب کے مضامین نے نہ صرف آریہ سماج کے ممبروں کو قدم آگے بڑھانے کی تحریک کی۔بلکہ پنڈت دیانند صاحب اپنے عقیدہ سے ہٹ گئے۔روحوں کے بے انت ہونے کا جو اعلان ان کی طرف سے بڑے زور شور سے کیا گیا تھا وہ انہیں واپس لینا پڑا۔آریہ سماج نے سوامی دیا نند صاحب کی لائف میں تعجب ہے ، اس عظیم الشان واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔ممکن تھا اس مباحثہ اور اس میں سوامی جی کی شکست کا حال مشکوک ہو جاتا اگر یہ حالات خود ان کی زندگی میں ہی چھپ کر شائع نہ ہو گئے ہوتے۔برادر ہند رسالہ ایک ایسے شخص کے قلم سے ایڈٹ ہوتا تھا جو اسلام کا اسی طرح مخالف تھا جس طرح پر سوامی جی مخالف تھے۔مگر اس میں ایک انصاف پسند روح تھی اور وہ دونوں کے کلام پر ایک صحیح حج منٹ لکھ سکتا تھا۔چنانچہ اس نے جو فیصلہ کیا اور جور بیمارک اس مباحثہ پر لکھے۔وہ میں پہلے درج کرتا ہوں۔اور پھر اعلان درج کرتا ہوں۔