حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 180 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 180

حیات احمد ۱۸۰ جلد اول حصہ دوم معلوم ہو کہ یہ مسئلہ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں ہے۔اگر کوئی ممبر سماج کا اس کا دعویدار ہو تو اس سے سوال کرنا چاہیئے اور اسی کو اس کا جواب دینا لازم ہے۔چونکہ اس اشتہار سے لوگوں کو یہ مغالطہ پیدا ہوتا تھا کہ آریہ سماج والے سوامی دیانند صاحب کے پیرو اور تابع ہیں۔حالانکہ یہ بات نہیں۔اس لئے بغرض اشتباہ اور مغالطہ مذکور کے یہ تحریر عمل میں آئی۔راقم جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لاہور۔لالہ جیون داس کے متعلق کچھ لالہ جیون داس صاحب گورنمنٹ پنشنز ہیں اور ۱۸۷۸ء میں لاہور سماج کے وہی سیکرٹری تھے۔ان کے اس اعلان نے حضرت مسیح موعود پر لالہ جیون داس کی حق پسند طبیعت کی حقیقت کو کھول دیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود بمقابلہ دیگر آریہ سماجیوں کے لالہ جیون داس کو خاص عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ جب آپ نے سرمہ چشم آریہ کھی اور اس کے جواب دینے کے لئے انعام مقرر کر دیا تو آپ نے اس امر کے تصفیہ کے لئے کہ آیا جواب ہو گیا ہے یا نہیں۔لالہ جیون داس کو ہی ثالث بنانا تجویز کیا تھا۔لالہ جیون داس اپنے خیالات میں آزاد آریہ سماجی رہے۔اور انہوں نے سوامی دیانند صاحب کے اکثر خیالات سے اختلاف کیا اور نہ صرف اختلاف کیا بلکہ وہ اختلاف مشتہر بھی کیا۔حضرت اقدس کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ ثانی سے بھی انہوں نے خط و کتابت کی تھی اور بعض سوالوں کا جواب چاہا تھا۔جو حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ الاحد نے رسالہ تشحیذ میں غالباً چھپوا دیا تھا۔غرض لالہ جیون داس ایک پرانے آریہ سماجی ہیں۔پنڈت دیانند صاحب سرسوتی ان مضامین اور مطالبات کا کوئی جواب تو نہیں دے سکا۔مگر اس سلسلہ میں انہوں نے بعض آریہ سماجیوں کی معرفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مباحثہ کا چیلنج دیا۔جس کو حضرت مسیح موعود نے تو قبول کر لیا اور ایک اعلان بصورت کھلی چٹھی سوامی دیانند صاحب کے نام شائع کیا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ معاملہ مخفی رہے۔اگر چہ سوامی جی