حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 178
حیات احمد وو جلد اول حصہ دوم کہ جو صاحب منجمله توابع سوامی دیانند سرسوتی صاحب سوال ھذا کا جواب دے کر ثابت کرے کہ ارواح بے انت ہیں۔اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں۔تو میں اس کو مبلغ پانچ سوروپیہ انعام دوں گا۔ان انعامی مضامین کا اثر اور آریہ سماج میں کھلیلی ان مضامین کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ آریہ سماج کے کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آریہ سماج پر ایک نمایاں فتح حاصل ہوئی۔اور اس سوال نے آریہ سماج میں جناب پنڈت دیانند صاحب سرسوتی کی پوزیشن کو اس وقت ایک سخت دھکا دیا۔پنجاب میں اس وقت بہت سے علماء موجود تھے۔ہندو اور عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی جو آریہ سماج کے اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے ، موجود تھے۔مگر خدا تعالیٰ کے پاک نام کی غیرت نے اگر کسی قلب کو متحرک اور مضطرب کیا۔تو وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا دل تھا۔جو اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی ہتک کو گوارا نہیں کر سکتا تھا۔یہ ایک بات ہے جو قارئین کرام کے لئے قابل غور ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت جب تک ایک دل میں اپنا اصلی اور صحیح سکہ قائم نہ کر لے اور خدا تعالیٰ سے اس بندہ کا شدید اور لذیذ تعلق نہ ہو۔اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت پیدا نہیں ہو سکتی۔یہ ایک فیکٹ (حقیقت) ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے تو اس قدر غیرت رکھتا ہے کہ بعض وقت ایک کے خلاف معمولی سی بات پر وہ اپنی جان تک پر کھیل جاتا ہے۔لیکن تھوڑے اور بہت ہی تھوڑے ہیں وہ دل جن میں یہی اثر اللہ تعالی کے لئے ہو۔حضرت مسیح موعود نے اپنی اس فطرت کا نقشہ اس ایک شعر میں کھینچ دیا ہے۔همه در دور این عالم امان و عافیت خواهند چه افتاد این سر مارا کہ مے خواہد مصیبت را * القصہ اس تحریری مباحثہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور کی آریہ سماج ( جو ان دنوں میں سب سے بڑی اور زبر دست سماج پنجاب میں سمجھی جاتی تھی) کے سیکرٹری لالہ جیوند اس صاحب کو اعلان کرنا پڑا کہ یہ ترجمہ:۔سب لوگ اس زمانہ میں امن و عافیت کے خواستگار ہیں میرے سر کو کیا ہوا کہ وہ مصیبت کا خواہش مند ہے۔