حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 175 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 175

حیات احمد ۱۷۵ جلد اول حصہ دوم تذکرۃ الاولیاء اور فتوح الغیب اور سفر السعادت بھی پڑھتے۔کتابوں کے اس انتخاب سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کی طبیعت کی افتاد کیسی واقعہ ہوئی تھی۔قرآن فہمی کے لئے کیا راہ اختیار کرتے سلسلہ مضمون کی وجہ سے میں یہاں ایک اور امر بیان کرنے پر مجبور ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ مشکلات قرآنی کے حل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صرف ایک طریق عمل بتادوں۔حضرت مسیح موعود کی ہمیشہ سے عادت تھی کہ جب وہ اپنے کمرے یا حجرے میں بیٹھتے تو دروازہ بند کر لیا کرتے تھے۔یہی طرز عمل آپ کا سیالکوٹ میں تھا لوگوں سے ملتے نہیں تھے۔جب کچہری سے فارغ ہو کر آتے تو دروازہ بند کر کے اپنے شغل اور ذکر الہی میں مصروف ہو جاتے۔عام طور پر انسان کی عادت متنجس واقع ہوئی ہے۔بعض لوگوں کو یہ ٹوہ لگی۔کہ یہ دروازہ بند کر کے کیا کرتے رہتے ہیں۔ایک دن اُن ٹوہ لگانے والوں کو حضرت مسیح موعود کی اس مخفی کا رروائی کا سراغ مل گیا۔اور وہ یہ تھا کہ آپ مصلی پر بیٹھے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں لئے دعا کر رہے ہیں کہ :- یا اللہ تیرا کلام ہے۔مجھے تو تو ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتا ہوں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ قرآن فہمی کے لئے دعاؤں اور توجہ الی اللہ کو ہی اپنا راہ نما بناتے تھے۔کیونکہ آپ کا عقیدہ تھا کہ مشکل قرآں نہ از ابنائے دنیا حل شود ذوق آں مے داند آں مستے کہ نوشد آں شراب * آپ کی خلوت و جلوت قرآن مجید کی محبت و غیرت سے معمور ہوتی تھی۔اور اب وقت آ گیا تھا۔کہ آپ تائید اسلام کے لئے پبلک میں آئیں۔اور قرآن مجید کے حقائق اور معارف کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔آپ کی دعائیں اسلام کی شوکت وعظمت کی بازیافتگی کے لئے تھیں۔اور حلا ترجمہ: قرآن کے رموز دنیا دار نہیں سمجھ سکتے اس مزے کا ذوق وہی جانتا ہے جس نے یہ شربت پیا ہے۔