حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 172 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 172

حیات احمد ۱۷۲ جلد اول حصہ دوم میں تو نوکر ہو گیا ي شغل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدو شباب ہی سے قدرت نے یہ جوش عطا فرمایا تھا کہ وہ تبلیغ و اشاعت اسلام کے لئے بے قرار رہتے تھے۔جو لوگ آپ کے پاس آتے تھے انہیں اسلام کی خوبیوں اور سچائیوں سے نہ صرف واقف کرتے بلکہ بعض اوقات گھنٹوں ان سے مباحثہ ہوتے رہتے۔سیالکوٹ کے ایام اقامت میں وہاں کے پادریوں سے ہمیشہ مسیحیت اور اسلام پر گے گفتگو میں ہوتیں اور اوقات کچہری کے بعد اکثر وقت اسی میں گزرتا۔تا ہم حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی زندگی میں بعض دنیوی مصروفیتیں بھی ہو جاتی تھیں گو آپ کو جب وقت ملتا تو پھر اپنے میں مصروف ہو جاتے۔بارہا حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم اپنے واقف کاروں کو لے جا کر دکھاتے کہ کس شغل میں آپ کے اوقات گزر رہے ہیں۔جھنڈا سنگھ نامی ایک شخص کا ہلواں متصل قادیان کا رہنے والا بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے اس کو کہا کہ حضرت مسیح موعود کو بلا لاؤ۔جب وہ بلا کر لایا۔تو بڑے مرزا صاحب نے فرمایا۔غلام احمد تم میرے ساتھ چلو کہ میں تمہیں کسی معزز عہدہ پر ملازم کرا دوں۔غلام قادر تو نوکر ہو گیا ہے۔تجھے بھی کسی جگہ کرا دوں۔حضرت مسیح موعود نے جواب دیا کہ میں تو جس کا نوکر ہونا تھا ہو چکا۔مرزا صاحب قبلہ مرحوم یہ جواب سن کر بولے کہ اچھا نوکر ہو گئے؟ پھر جواب میں کہا کہ جس کا نوکر ہونا تھا ہو چکا۔اس پر انہوں نے آپ کو رخصت کر دیا اور آپ جا کر اپنے شغل میں مصروف ہو گئے۔مطالعہ کتب اس وقت آپ کے مشاغل بجز عبادت و ذکر الہی اور تلاوت قرآن مجید اور کچھ نہ تھے۔آپ کو یہ عادت تھی کہ عموماً ٹہلتے رہتے اور پڑھتے رہتے۔دوسرے لوگ جو حقائق سے ناواقف تھے۔وہ اکثر آپ کے اس شغل پر ہنسی کرتے۔قرآن مجید کی تلاوت اُس پر تد بر اور تفکر کی بہت عادت تھی۔خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک قرآنِ مجید تھا۔اس کو