حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 167 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 167

حیات احمد ۱۶۷ جلد اول حصہ دوم سے بعض اب تک زندہ ہیں اور کھول کر کہہ دیا کہ شرکاء کے ساتھ مقدمہ مت کرو یہ خلاف مرضی حق ہے مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔اور آخر ناکام ہوئے لیکن میری طرف سے ہزار ہا روپیہ کا نقصان اٹھانے کے لئے استقامت ظاہر ہوئی اس کے وہ سب جو آب دشمن ہیں گواہ ہیں چونکہ تمام کاروبار زمینداری میرے بھائی کے ہاتھ میں تھا۔اس لئے میں نے بار بار ان کو سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا اور آخر نقصان اٹھایا۔دوسری نظیر از انجملہ ایک یہ واقعہ ہے کہ تخمینا پندرہ یا سولہ سال (۱۸۷۷ء یا ۱۸۷۸ء کا واقعہ ہے) کا عرصہ گزرا ہو گا یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہو کہ اس عاجز نے اسلام کی تائید میں ، آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام ڈلیا رام تھا اور وہ وکیل بھی تھا اور امرتسر میں رہتا تھا اور اس کا ایک اخبار (وکیل ہندوستان ) بھی نکلتا تھا۔ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں بھیجا اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی اس لئے وہ عیسائی مخالفت مذہب کی وجہ سے افروختہ ہوا۔اور اتفاقاً اس کو دشمنانہ حملہ کے لئے یہ موقعہ ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے جرم کی سزا میں قوانین ڈاک کی رو سے پانسو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید ہے سواس نے مخبر بن کر افسران ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرا دیا اور قبل اس کے جو مجھے اس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو رویا میں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ڈلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اُسے مچھلی کی طرح تل کر واپس بھیج دیا ہے میں جانتا ہوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ