حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 164 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 164

حیات احمد ۱۶۴ جلد اول حصہ دوم ہوں گے کہ گویا میں نے براہین احمدیہ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خورد و بر د کیا۔اور حرامخوری میں زندگی بسر کی لیکن اگر خدا تعالیٰ کی اُس عنایت نے جو مومنوں اور صادقوں اور راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہے مجھ کو سچا کر دیا تو پھر آپ فرما دیں کہ یہ سب نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزاوار ٹھہریں گے یا اُس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کے لئے باقی رہے گا۔آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہ سے واقف ہے۔اُس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنِّی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اِهَانَتَكَ۔یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔سویقیناً سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغ گو ہونا ثابت کر دے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں۔ان تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔آپ کا دعوی ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لاتا ہوں۔پس اگر آپ اس قول میں بچے ہیں تو آزمائش کے لئے میدان میں آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجال ہے روسیاہ ہو جائے اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کے لئے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ الْقَاءِ رَبِّنی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کا فرٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جَلّ شَانُهُ کی قسم ہے کہ حسب طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آ جاؤ تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے رو سے کون کا ذب اور دقبال اور کافر ثابت ہوتا ہے اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا۔اور