حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 161
حیات احمد ۱۶۱ جلد اول حصہ دوم ہمیشہ کذب کی ناپاکی سے مجھ کو محفوظ رکھتا رہا ہے۔یہاں تک کہ بعض وقت انگریزی عدالتوں میں میری جان اور عزت ایسے خطرہ میں پڑ گئی کہ بجز استعمال کذب اور کوئی صلاح کسی وکیل نے مجھ کو نہ دی لیکن الله جل شانہ کی توفیق سے میں سچ کے لئے اپنی جان اور عزت سے دستبردار ہو گیا۔اور بسا اوقات مالی مقدمات میں محض سچ کے لئے میں نے بڑے بڑے نقصان اٹھائے۔اور بسا اوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اور اپنے بھائی کے برخلاف گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔اس گاؤں میں اور نیز بٹالہ میں بھی میری ایک عمر گزرگئی ہے۔مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہے؟ پھر جب میں نے محض اللہ انسانوں پر جھوٹ بولنا متروک رکھا اور بارہا اپنی جان اور مال کو صدق پر قربان کیا۔تو پھر میں خدا تعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا۔“ اس خط کے جن فقرات کو میں نے جلی قلم سے لکھا ہے۔وہ قارئین کرام کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرائے بغیر نہیں چھوڑتے۔ایک شخص اپنے وطن اور اپنے واقف کارلوگوں میں اپنی راستبازی کا ایسا متحد یا نہ دعوی کرتا ہے۔اور کوئی شخص واقعات کی بناء پر اس کے دعوی کو باطل نہیں کر سکتا۔اگر کوئی اور ثبوت ہمارے ہاتھ میں اس کی راستبازی کا نہ ہو۔تو یہ اکیلا ہی ایسا زبردست ثبوت ہے کہ اسے مسلّم راستباز ٹھہراتا ہے۔یہ نی تحدی ہی نہیں اس کے ساتھ واقعات ہیں۔جس شخص کے نام یہ خط ہے اس کی شہادت میں اوپر لکھ آیا ہوں۔جو مؤلف براہین احمدیہ یعنی حضرت مسیح موعود کے حالات سے واقفیت کا پورا اظہار و دعوی کرنے کے بعد نصرت اسلام کا اسے حالی وجود قرار دیتا ہے۔اب اس تحدی پر حضرت مسیح موعود کو لکھا کہ نعوذ باللہ آپ کا وصف لازم ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود اگر اس کے اس بیان پر خاموش ہو رہتے۔تو حضرت مسیح موعود کی تحدی میں یہ ایک نقص ہوتا۔مگر جس جرأت اور دلیری کے ساتھ آپ نے اس کا رڈ کیا ہے۔اور واقعات کی بناء پر محمدحسین کو چیلنج دیا ہے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راستبازی اور صداقت کو ایک مستحکم چٹان بنا دیا ہے کہ جو شخص اس سے ٹکرائے گا وہ اپنے سر کو پاش پاش کر لے گا۔میں بلا کم و کاست اس اعتراض اور جواب کو لکھے دیتا ہوں۔قولہ سے مولوی محمد حسین کا اعتراض مراد ہے۔اور اقول حضرت مسیح موعود کے جواب کا اظہار ہے۔