حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 154
حیات احمد ۱۵۴ جلد اول حصہ دوم دوسری جلد کی اشاعت میں مالی مشکلات بدستور میرے راہ میں تھے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے ذریعہ سے پہلے نمبر کی اشاعت کے لئے جو روپیہ شراکت کے طور پر ملا تھا۔اس نمبر کے لئے نہیں مل سکتا تھا اور ابھی آئندہ ہیں مگر میں اپنے بعض مخلص اور سلسلہ کی اشاعت کے فدائی احباب کی مالی امداد کا ہمیشہ رہین منت ہوں جو کارخانہ الحکم کی ہر تحریک پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔اس جلد کی اشاعت کے لئے مجھے خصوصیت سے مولوی حافظ غلام رسول صاحب اسٹیشن ماسٹر اور شیخ باشم علی صاحب گرد اور قانونگو نے مدد دی ہے۔دراصل سیرت کے کام کے لئے سر دست ۶۰ ایسے مخلص احباب کی ضرورت ہے جو پانچ پانچ روپیہ بطور ڈونیشن اس کے سرمایہ کے لئے دیدیں۔پھر اس کام کے با قاعدہ اجرا میں خدا تعالیٰ چاہے تو کوئی دقت پیش نہ آئے۔میں اُن روحوں کا شوق سے انتظار کروں گا جو اپنے محسن و آقا کے حالات زندگی میں ایک نہایت ہی قلیل رقم کی قربانی کے لئے آمادہ ہوں گے۔ان کے نام سیرت کے اگلے نمبر میں شائع کر دیئے جائیں گے۔جنوری ۱۹۱۶ء سے اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو با قاعدہ مہینے میں ایک نمبر اشاعت پاتا رہے گا۔اگر مستقل خریداروں کی تعداد ایک ہزار بھی ہو گئی تو انشاء اللہ قیمت میں بہت بڑی کمی ہو جائے گی۔میں پھر ایک بار قیمت کے متعلق ان الفاظ کو دہرانا چاہتا ہوں جو پہلے کہے تھے اور اپنے مخلص احباب کا جنہوں نے اس وقت تک اس کی خریداری کے ذریعہ میری ہمت بند ہائی ہے شکر یہ ادا کرتا ہوں۔اب رہا قیمت کا سوال یہاں تو ہر چہ بقامت کہتر بقیمت بہتر کا معاملہ ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے یہ سلسلہ اُن لوگوں کے لئے شروع کیا ہے جن کی نظر پیسوں اور سکوں پر نہیں ہوتی۔اور جو کاغذ اور سیاہی مصالح کے اخراجات کا حساب کرنے نہیں بیٹھتے۔علاوہ بریں یہ دیکھا گیا ہے کہ چونکہ ابھی تک حضرت مسیح موعود کی قدر لوگوں نے شناخت نہیں کی اس لئے ایسی کتابیں بہت تھوڑی تعداد میں نکل کر رہ جاتی ہیں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا ہے۔میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات قیمت کا مسئلہ بھی اشاعت میں روک کا موجب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر ہمارے احباب توجہ کریں تو غیر احمدیوں میں اشاعت کے لئے بیسیوں صورتیں نکل سکتی