حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 6
حیات احمد جلد اول حصہ اوّل اولوالعزم صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ الاحد خلیفہ ثانی کا عصر سعادت مقدر کر رکھا تھا۔اس لئے میری کوشش اور ہمت متواتر ناکام رہی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو آپ کی سیرت کی اشاعت کا شوق اور جوش بہت عرصہ سے تھا اور خاکسار کو متعدد مرتبہ اس کام کے شروع کرنے کے لئے فرمایا۔مگر میں اپنی کم ہمتی اور کم مائیگی کا اعتراف کرتا ہوں کہ اُس وقت مجھے یہ سعادت نہیں مل سکی۔آخر ایک مرتبہ فرمایا کہ میں اب پھر نہیں کہوں گا۔جس پر میں نے عرض کیا کہ میں انشاء اللہ اب لکھ کر ہی پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کا فضل ہے کہ میں جزء 1 اس عہد سے سبکدوش ہونے کی سعادت پا رہا ہوں۔اور اس فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ اور بھی توفیق رفیق راہ ہوگی۔مجھ کو اس سیرت کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اور نہ مجھے اس کے ہر آئینہ مکمل ہونے کا ادعا ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس عظیم الشان کام کی ایک داغ بیل لگانے کی میں نے کوشش کی ہے۔آنے والی نسلیں اس پر شاندار عمارتیں بنالیں گی۔چونکہ سیرت ایک ضخیم کتاب ہے اس لئے میں نے آج کل کے مروجہ طریق کے موافق پسند کیا کہ اس کو اجزاء کی صورت میں شائع کر دیا جاوے تا کہ جس جس قدر حصہ تیار ہوتا جاوے ناظرین تک پہنچتا رہے۔سیرت و سوانح احمدیہ کی تالیف و ترتیب کے مشکلات سے ہر شخص واقف نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے کتنی ورق گردانی اور مطالعہ کی ضرورت ہے ایسی حالت میں اگر میرے جیسا کمزور انسان جو یک سرو ہزارسودا کا واقعی مصداق ہو اس سلسلہ میں پورا کامیاب نہ ہو تو جتنا کچھ بھی کر سکے وہ غنیمت ہے میں اس سیرت کی اشاعت کے کام کو اپنے خیال اور مذاق کے موافق مرتب کرنے کے لئے شاید ابھی اور التوا میں ڈالتا اگر حضرت اولوالعزم کی توجہ غیر معمولی تصرف نہ فرماتی آپ کے حضور سیرت کی اشاعت کا سوال میری موجودگی میں مختلف رنگوں میں آتا۔اور آپ کی خاموشی اندر ہی اندر مجھے بے حد نادم کر جاتی اور میں اپنے عہد کو یاد کر کے عرق خجالت میں ڈوب جاتا۔ترتیب کے بعد اس کی طبع و نشر کا مرحلہ بھی میرے لئے کچھ کم دقت افزا نہ تھا۔مگر اللہ تعالیٰ