حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 7
حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل نے یہاں بھی میری دستگیری فرمائی۔اور غیب سے ایسی راہ پیدا کر دی جو اس جلد کی طبع واشاعت کا ذریعہ ہو گئی۔الحمد للہ۔میرے وہم و خیال میں بھی یہ موقعہ نہ تھا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو جنہوں نے ایسے سامان مہیا کئے۔مجھے اس کی ترتیب کی توفیق کا ملنا اور سامان طبع کا انتظام ہو جانا میں ایسے علامات سمجھتا ہوں کہ جو اس کی قبولیت اور مفید و با برکت ہونے کی ٹھنڈی ہوائیں کہلا سکتی ہیں۔یہ مجموعہ بہت بڑا ہو گا۔اور متعد دحصص میں شائع ہوگا۔( بفضلہ تعالی ) اس کی جلد اشاعت اور تحمیل کا کام اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے۔جہاں تک اسباب سے تعلق ہے۔وہ احمدی قوم کی حوصلہ افزائی اور اعانت پر موقوف ہے۔ایسے عظیم الشان کام قومی سر پرستی کو چاہتے ہیں اور قوم کا فرض ہے کہ وہ اس پر توجہ کرے۔میں یہ جرات سے کہتا ہوں کہ یہ کتاب ہر احمدی کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔اب رہا قیمت کا سوال یہاں تو ہر چہ بقامت کہتر بقیمت بہتر کا معاملہ ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے یہ سلسلہ ان لوگوں کے لئے شروع کیا ہے جن کی نظر پیسوں اور سکوں پر نہیں ہوتی اور جو کاغذ اور سیاہی مصالح کے اخراجات کا حساب کرنے نہیں بیٹھتے علاوہ بریں یہ دیکھا گیا ہے کہ چونکہ ابھی تک حضرت مسیح موعود کی قدر لوگوں نے شناخت نہیں کی اس لئے ایسی کتابیں بہت تھوڑی تعداد میں نکل کر رہ جاتی ہیں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا ہے میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات قیمت کا مسئلہ بھی اشاعت میں روک کا موجب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر ہمارے احباب توجہ کریں تو غیر احمدیوں میں اشاعت کے لئے بیسیوں صورتیں نکل سکتی ہیں۔بائیں میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر ڈیڑھ ہزار خریدار اس مجموعہ کے پیدا ہو گئے تو آئندہ اس سلسلہ میں رعایت کی مناسب گنجائش نکل آئے گی۔میں یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ سیرت میں مناسب اور ضروری مقامات پر تصویریں بھی ہوں گی۔جن کا میں انتظام کر رہا ہوں۔اور جو حالات ذاتی طور پر کسی کو معلوم ہوں وہ لکھ کر میرے پاس بھیج دیں۔اسی سلسلہ میں یہ بھی میں اعلان کرتا ہوں کہ سیرت کا یہ مستقل کام ہے اور بزرگانِ ملت اور سلسلہ کے دوسرے افراد کی