حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 145
حیات احمد ۱۴۵ جلد اوّل حصہ اول رکھا ہے نظام ہی ایسا بنایا ہے کہ بغیر مل کر رہنے اور صحیح تمدن کے اس کا کارخانہ بارونق نہیں ہوسکتا۔یہ بالکل سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ جنگلی جانوروں کی طرح ہماری فطرت بھی ایسی ہی بنا دیتا کہ ہر ایک کا سود و زیاں اُن کی اپنی ہی ذات سے وابستہ ہوتا۔جب کہ تم دیکھتے ہو کہ حیوانات کی ضرورتیں ان کے پیٹ اور شرمگاہ سے آگے نہیں جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہیں تمدن کی ضرورت نہیں انسان کا باہم مل کر رہنا اور متمدن ہستی ہونا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ اس کی خواہشوں اور تقاضوں کی کوئی حد بست نہیں ہے۔فی الحقیقت یہی ایک ہستی ہے جس کی خواہشوں کا حلقہ موٹی اور مشہور چیزوں سے بہت آگے نکل گیا ہے۔اور وہ ہمیشہ ان دیکھی خواہشوں اور غیب کی تلاش میں رہتا ہے۔اسی واسطے مشیت ایزدی نے چاہا کہ انسان مل کر رہیں۔اور اس حیثیت سے اس کو انسان کا نام دیا۔جس کے معنے ہیں دو محبتوں کا مجموعہ۔ایک محبت اپنے خالق سے اور دوسری اپنی نوع سے۔پس اس متمدن ہستی کے باہم مل کر رہنے میں مختلف خیالات اور طبائع اور حالات کے اختلاف کی وجہ سے بعض قسم کے فساد پیدا ہو سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کے انسداد کے لئے جب سے انسان دنیا میں آیا حکومت ظاہری کا ایک سلسلہ قائم کیا۔اور چونکہ محض قوانین کامل اصلاح اور امن کا ذریعہ نہیں ہو سکتے۔اس لئے اس کے ساتھ ہی روحانی حکومت اور باطنی نظام کو قائم رکھنے کے لئے خاص کامل افراد کے سلسلہ کو دنیا میں جاری رکھا۔یہ انبیاء علیہم السلام اور ان کے خلفاء کی جماعت ہوتی ہے اور ان کی زندگیاں انسان کے لئے بطور ایک آئیڈیل اور ماڈل کے ہوتی ہیں۔اسی لئے قرآن مجید نے یہ دعا تعلیم کی۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة: ٧،٦) اور سالار منعمین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی (جو انسانی زندگی کے شعبوں کی ایک کامل رہنما ہے) کو بطور نمونہ کے قرار دے کر فرمایا۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سیرت تمہارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔