حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 144
حیات احمد ۱۴۴ جلد اول حصہ اوّل حضرت مسیح موعود کی مظہر و پاک زندگی متحد یا نہ زندگی ہے اس پر خدا تعالیٰ کی شہادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لائف اور سیرت ایک عظیم الشان متحد یا نہ نشان ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق جو تحری عطا فرمائی وہ اُسی رنگ اور انہیں الفاظ میں ہے۔جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دئے گئے تھے۔چنانچہ فرمایا۔وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُون۔اور یقیناً میں نے اس دعویٰ بعثت سے پہلے تم میں اپنی عمر کا ایک حصہ گزارا ہے۔کیا تم غور نہیں کرتے ؟ یہ الہام حضرت مسیح موعود پر ۱۸۸۴ء میں ہوا تھا اور خود حضرت نے اپنی کتاب نزول المسیح کے صفحہ۲۱۲ پر بھی اس کا ذکر کیا ہے۔یہ وہی تحدی ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔حقیقت میں یہ ایسی زبر دست اور نا قابل تسخیر تحدی ہے کہ جسے تیرہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی کبھی مخالف کو اس کے توڑنے کا موقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نہیں ملا۔اسی طرح پورے تیس برس گزر جانے کے باوجود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحری کو کوئی باطل نہیں کر سکا۔اور یہ ایک زبر دست ثبوت آپ کی مطہر اور مقدس زندگی کا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور ان کے نواب و خلفاء کے لئے یہ لازمی امر ہے کہ ان کی سیرت اور زندگی مطہر اور مقدس ہو۔ہاں اس قابل ہو کہ انسان کے لئے وہ بطور ایک آئیڈیل اور ماڈل کے قرار پا سکے۔کیونکہ انسان کی زندگی یا صاف الفاظ میں یوں کہو کہ انسانی تمدن کی بنیاد ایک نمونہ اور نقل پر مبنی ہے اور جس قدر کارخانہ تمدن عالم کا ہے۔وہ صرف مختلف نفلوں کا مجموعہ ہے۔میں اس فلسفہ تمدن پر لمبی بحث نہیں کرتا۔ہر شخص سمجھتا ہے کہ انسان جو کچھ بھی دنیا میں کرتا ہے وہ کسی ایک یا دوسرے کی نقل ہے۔کیونکہ اس دنیا کا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے ہمیں