حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 143
حیات احمد ۱۴۳ جلد اوّل حصہ اوّل اس لئے قدرت نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ احمد قادیانی، احمد مکی علیہما الصلوۃ والسلام کی پاک سیرت کا ایک نمونہ اور مظہر اتم ہوگا۔پس ہمارے لئے اب راستہ صاف ہے کہ ہم سیرت المہدی کے مطالعہ کے وقت سیرت محمدیہ کو مدنظر رکھیں۔یہ معیار اور محک جو میں نے تجویز کیا ہے یہ بھی خیالی اور ظنی نہیں بلکہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل شدہ وحی الہی کو پڑھا ہے۔وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صاف صاف وحی میں بار ہا آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے خطاب فرمایا۔اور کثرت کے ساتھ ان آیات کی وحی ہوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو چکی تھی۔یہاں تک کہ فرمایا۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّ آءُ عَلَى الْكُفَّارِ اور پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں۔اور بالآخر جو وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ الله (ال عمران: ۳۲) کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود پر بھی نازل ہوئی۔ان تمام مکالمات الہیہ اور مخاطبات قدسیہ پر یکجائی نظر کرنے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہی کچھ دیا گیا تھا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ہاں فرق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ ملا وہ براہ راست تھا۔اور احمد قادیانی کو جو کچھ دیا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور کامل محبت کا نتیجہ تھا۔اس لئے ایک آقا اور دوسرا غلام کہلایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی اس تواتر اور کثرت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئی ہے کہ اس کا توازن اور مقابلہ اسی سیرت کے دوسرے مقام پر انشاء اللہ ہو گا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اور لائف کا مطالعہ منہاج نبوت پر اور پھر تمام نبوتوں کے جامع اور اتم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے توازن پر کرنا چاہئے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود کو فرداً فرداً مختلف انبیاء علیہم السلام کے نام سے اللہ تعالیٰ نے خطاب کیا اور بالآخر جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ فرمایا۔