حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 142
حیات احمد ۱۴۲ جلد اول حصہ اوّل پیدا ہو گیا تھا۔اور دنیوی کا روبار مرزا غلام قادر صاحب آپ کے بڑے بھائی نے سنبھال لئے تھے۔اس واسطے اب کلیہ آپ رو بخدا ہو گئے اور آپ کی توجہ تمام تر اسلام کی عظمت و شوکت کے اظہار اور اس کی خوبیوں کی اشاعت کی طرف لگ گئی۔قادیان میں جو لوگ آپ کے پاس آتے جاتے تھے اُن پر اسلام کی خوبیوں کی تبلیغ کرتے رہتے۔اور پھر رفتہ رفتہ بیرونی اخبارات اور رسالجات میں آپ کے مضامین نکلنے شروع ہوئے۔چونکہ یہ حصہ زندگی کا آپ کا گونہ بعثت و ماموریت ہی کا حصہ ہے اس لئے میں آپ کی زندگی قبل بعثت کے متعلق ضروری بحث کو مقدم کرتا ہوں۔مسیح موعود کی سیرت کو سیرت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار اور آئینہ سے دیکھو میں اس امر کے لکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں پاتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پر غور کرتے ہوئے جس معیار پر میں نے اسے مشاہدہ کیا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ ناظرین اس پر غور کریں وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔اور اس وقت بھی میری غرض احمد قادیانی کے آئینہ میں گونہ احمد کی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھنا اور دکھانا ہے۔آپ کو آگے چل کر معلوم ہو جائے گا کہ میں نے تکلف اور تصنع سے کوشش نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے آئینہ میں حضرت مسیح موعود کی سیرت کا مشاہدہ کراؤں۔بلکہ حقیقت الامر یہ ہے کہ ہمارے محبوب و مطاع و آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فطرت ایسی ہی بنائی گئی ہے کہ اضطرار ا اگر اس سے وہی افعال سرزد ہوئے جو آپ اور ہم سب کے سید و مقتدا خیر الرسل حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئے تھے۔اور یہ کوئی انوکھی اور نرالی بات نہ تھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کی بشارت دیتے ہوئے اسے اپنا ہی بروز اور مظہر اتم قرار دیا تھا اور ھذت مناسبت اور تعلق محبت کی بنا پر یہ فرمایا کہ اس کا نام میرا نام ہوگا یہاں تک کہ وہ میری ہی قبر میں دفن ہوگا۔